|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

چلو دنیا کی چمک سے ایمان کے نور تک

ماں بار بار کہتی تھی مصعب! یہ محمد ﷺ کی صحبت چھوڑ دو، یہ دین چھوڑ دو، ورنہ تم میرے بیٹے نہیں رہو گے۔ مگر مصعبؓ کو سمجھ آچکی تھی کہ دل میں اترنے والا قرآن اب نکالا نہیں جا سکتا۔

مصعبؓ مکہ کا وہ جوان تھا جسے دیکھ کر نگاہیں رک جاتیں۔ خوشبو لگاتا تو فضا مہک اٹھتی۔ لباس پہنتا تو لوگ رشک کرتے۔ دولت، شان، جوانی سب کچھ پاس تھا۔ لیکن جب اسلام قبول کیا، تو ایک ایک چیز چھن گئی۔

ماں نے گھر کے دروازے بند کر دیے۔ بچھونا، کھانا، کپڑے سب روک دیے۔ ایک دن کا شہزادہ دوسرے دن کا قیدی بنا۔ دوستوں نے منہ موڑ لیا، رشتہ داروں نے عاق کر دیا۔ مگر مصعبؓ کی زبان سے کلمہ نہ چُھوٹا۔

پھر جب وہ بھوک سے دبلا ہو گیا، جسم پر چھالے پڑ گئے، تو لوگ حیران تھے کہ یہ وہی مصعب ہے؟ ہاں! وہی مصعب تھا، لیکن اب خوشبو عود، مشک و عنبر کی نہیں، ایمان کی تھی۔ کپڑے ریشم کے نہیں، مگر دل کا نور ہدایت آسمانوں تک پہنچا ہوا تھا۔

مدینہ میں جب قرآن کی تلاوت کی تو دل بدل گئے۔ اوس اور خزرج کی دشمنیاں دوستی میں بدلیں۔ لوگ کہتے یہی مصعب ہے، محمد ﷺ کا نمائندہ۔ جسے مکہ نے کم تر سمجھا تھا اسے مدینہ نے معلمِ قرآن بنا کر عزت دی۔

احد کا دن آیا۔ مصعبؓ نے پرچمِ اسلام تھاما۔ ایک ہاتھ کٹا، تو دوسرے ہاتھ سے سنبھالا۔ دوسرا ہاتھ کٹا، تو بازوؤں سے لپٹایا۔ نیزوں اور تلواروں کے وار سہہ لیے، مگر جھنڈا زمین پر نہ گرنے دیا۔ جب شہید ہوا تو کفن کے لئے پورا کپڑا نہ ملا۔ سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے، پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگا ہو جاتا۔

یہ تھا وہ مصعب، جسے مکہ کے لوگ دنیا کا وارث سمجھتے تھے۔ مگر اس نے دنیا کو چھوڑ کر دین کو تھاما، اور قیامت تک کے لئے مثال بن گیا۔

!اے مسلم

مصعبؓ کی کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ دین پر قائم رہنے کے لئے کبھی دولت جاتی ہے، کبھی ماں کی محبت، کبھی جسم کی سلامتی لیکن جو ایمان کو تھام لے، وہی اللہ کی نظر میں باعزت ہوتا ہے۔

کیا تم رب کی تقسیم پر راضی نہیں؟

اچھا ذرا ٹھہر کر اپنے دل سے پوچھو: یہ جو تمہارے دل میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، یہ جو دوسروں کی نعمتیں اور صلاحیتیں دیکھ کر تمہارا دل سمٹ جاتا ہے، یہ جو کسی کے عزت پانے یا آگے بڑھنے پر تمہارے اندر ایک خفیف سا بوجھ اترتا ہے، کیا یہ سب اس لیے نہیں کہ ابھی تک تم نے اللہ کی تقسیم کو دل کی گہرائی سے قبول نہیں کیا؟

کیا تم نہیں جانتے کہ آدم علیہ السلام کو جب فضیلت ملی، ابلیس کا زوال اسی دن شروع ہوا؟ کیا وہ بھی اللہ کا عبادت گزار نہ تھا؟ کیا وہ بھی اللہ کے مقرب میں شامل نہ تھا؟ اس کی گمراہی صرف ایک جگہ سے پھوٹی کہ وہ اللہ کی تقسیم پر راضی نہ ہوا۔

آدم علیہ السلام کو مقام ملا تو اس نے کہا میں زیادہ بہتر ہوں۔۔۔یہی تعصب تھا۔

پھر جب دیکھا کہ اللہ نے ان پر وہ فضل کیا جو اسے نہیں دیا، تو دل میں آگ بھڑک اُٹھی۔۔۔یہی حسد تھا۔

اور جب حکم ربانی آیا تو دل میں ضد نے جگہ لے لی۔۔۔یہی جلن تھی۔

جب اللہ نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیا تو اس نے بنی آدم کی مخالفت کی ٹھان لی۔۔۔یہی عناد تھا۔ اور آج بھی ہے۔

ان چیزوں نے اسے رحمت کے دروازے سے دھکیل کر لعنت کے دروازے میں گرا دیا۔

اور تم…؟

کیا تم اس راستے سے بچنے کا ارادہ نہیں رکھتے؟

کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ تمہارا دل ایسا ہو جس پر اللہ کی رحمت برسے، جو تقدیر کے فیصلے پر مطمئن رہے، اور جسے اللہ کے عطا پر اعتراض کا کوئی راستہ نہ ملے؟

دیکھو۔۔۔

رب کی تقسیم پر راضی ہونا صرف ایک عبادت نہیں، یہ دل کی پاکیزگی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

:جو بندہ دل سے کہہ دے

اے اللہ! جو تو نے مجھے دیا، وہ میرے لیے بہتر ہے۔ جو تو نے دوسروں کو دیا، وہ ان کے لیے بہتر ہےاور جو تو نے میرے لیے روک لیا، اس میں بھی تیری حکمت ہے۔

تو ایسا بندہ کبھی حسد کا شکار نہیں ہوتا، کبھی تعصب میں نہیں پڑتا، کبھی دل میں کڑواہٹ نہیں پالتا۔

!یہ بات سمجھ لو

اللہ کی تقسیم میں کبھی ظلم نہیں، کبھی غلطی نہیں، کبھی بے حکمت فیصلہ نہیں۔

تمہیں جہاں رکھا ہے، جتنی قوت، جتنی عزت، جتنا رزق، جتنی صلاحیت، جتنی توفیق دی ہے، یہی تمہارے لیے سب سے مناسب تھا اور تمہارے لیے اتنا ہی امتحان کافی تھا۔

میرے دوست جان لینا جو دوسروں کو دیا ہے، وہ ان کے امتحان کا حصہ ہے، تمہاری محرومی کا سبب نہیں ہے۔

ڈرتے کیوں نہیں کہ کہیں یہی باہمی حسد تمہیں اہل کتاب کے نقشِ قدم پہ نہ چلا دے۔

وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِکُمۡ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡحَقُّ ۚ فَاعۡفُوۡا وَ اصۡفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ

ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جانے کے محض حسد و بغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو، یہاں تک کہ اللہ تعالٰی اپنا حکم لائے۔ یقیناً اللہ تعالٰی ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (البقرہ:109)

!لہٰذا لازمی سختی سے اپنے دل کو یہ نصیحت کر دو

کہ تو رب کے فیصلوں سے بڑا نہیں۔ اگر تو راضی ہو گیا تو سکون تیرے اندر اترے گا، اور اگر تو ناراض رہا تو ہر نعمت تیرے لیے حسرت بن جائے گی۔ رب کے فیصلوں پر راضی رہ۔ یہی سعادت ہے، یہی نجات ہے، یہی قلبِ سلیم کے لیے سلامتی کا راستہ ہے۔

Log In to Your Account