|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

ایمان کبھی آرام کی گود میں نہیں پلتا

!اے مخاطب

مکہ کا معاشرہ اس وقت سب سے بڑا امتحان تھا۔ وہاں بتوں کے نام پر بازار سجے تھے، اور توحید کی صدا گناہ سمجھی جاتی تھی۔ ایمان رکھنے والا اجنبی بھی تھا اور مجرم بھی۔ مگر جن دلوں میں اللہ کا نام و کلام اترا، ان کے لیے دنیا کے طعنے اور جسم کی اذیت سب ہیچ ہو گئے۔ غلامی کی زنجیریں تو پہلے بھی تھیں، مگر اب ایمان کی زنجیر ان کے لئے جان سے بھی قیمتی ہوگئی تھی۔

معاشرہ جب یاسرؓ اور سمیہؓ کو بازاروں میں گھسیٹتا، ابو جہل نشانہ و داغ ان جسم و عزت پر لگا کر اخلاص چھیننا چاہتا تھا۔ بہتی گنگا میں لوگ بھر بھر کے ہاتھ دھونے لگے۔ ریت کی گرمی، کوڑوں کی چوٹ اور نیزے کی تیزی کے باوجود زبانوں پر صرف ایک معروف صدا ایمانی تھی۔ عورت ذات، صنف نازک، سمیہؓ نے نیزے کے وار پر جان دے دی مگر موقف نہ بدلا، یوں زمین پر خون کے قطرے گرتے رہے اور مسلم تاریخ کے ابواب روشن عنوان بنتے چلے گئے۔

 ایک شور یہ تھا کہ یہ کلمہ چھپا لو، لوگ برداشت نہیں کرتے اور ایک صدا یہ تھی کہ اے محمد ﷺ ہم زندہ رہے تو آپ کا ساتھ اس وقت بھی دیں گے جب لوگ آپ کو آپکے شہر سے نکال دیں گے۔

اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے دِن بدِن قدم اٹھتے رہے، بلالؓ کے سینے پر پتھر رکھے گئے، گرمی اور پیاس نے جسم توڑ دیا، مگر دل سے توحید کا چراغ نہ بجھا۔ لوگ تماشا دیکھتے تھے، ہنستے تھے، مگر ان کے چہرے سے ایسی روشنی پھوٹتی تھی کہ ہنسی بھی لرز جاتی۔

خبابؓ کو دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، مگر ایمان کی گرمی انگاروں سے زیادہ دہکنے لگی۔ ابوذرؓ کو تنہائیوں میں دھکیلا گیا، مگر سچ کی آواز کبھی خاموش نہ ہوئی۔ بظاہر یہ سب زخم و داغ تھے لیکن دراصل ایمان کے تمغے تھے۔

!میرے دوست

یاد رکھ، ایمان کبھی آرام کی گود میں نہیں پلتا، وہ ہمیشہ قربانی کے آنسوؤں سے سینچا جاتا ہے۔ سمیہؓ کے خنجر، بلالؓ کے پتھر، خبابؓ کے انگارے یہی وہ چراغ ہیں جو آج بھی مومن کے راستے کو روشن کرتے ہیں۔ ایمان عزم کی وہ روشنی ہے جو قید و بند کی تاریکیوں میں بھی نہیں بجھتی۔

!اے مخاطب

آج تم بھی اسی آزمائش سے گزر رہے ہو۔ بس فرق یہ ہے کہ اب کوڑے نہیں، مگر ملامت و طعنے ہیں، قید خانے نہیں، مگر ذہنوں میں غلامی ہے۔ ہم سچ بولنے سے ڈرتے ہیں، حق کہنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مگر ایمان کا مطالبہ آج بھی وہی ہے کہ اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ رکھا جائے۔

!ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں میرے دوست

آج کا معاشرہ تجھے کلمہ گو تو دکھائی دے گا مگر اس کے چہروں کے پیچھے گمراہی کی دھول چھپی ہے۔ لوگ کلمہ پڑھتے ہیں، مگر حاجت کے وقت اللہ کو چھوڑ کر قبروں سے مانگتے ہیں، مشکل میں انسانوں کو پکار لیتے ہیں، اور رزق کے لئے درباروں کی خاک چھانتے ہیں۔ کوئی اولیاء کے وسیلے کو نجات سمجھ بیٹھا ہے، کوئی بزرگوں کے نام پر نذر و نیاز کو عبادت کا درجہ دے چکا ہے۔ کوٸی عزت کی تلاش میں پارلیمنٹ میں عہدے داروں کے پاؤں میں بیٹھے ہیں۔ یہ سب دراصل کفر کی وہ پرانی شکلیں ہیں جنہیں نرمی سے عقیدت و مصلحت کہا جاتا ہے۔ مگر یاد رکھ ایمان کا سودا نہ کر۔ عبادت، دعا، مدد، خوف اور امید صرف اللہ واحد القہار کے لئے ہے، نہ کہ اس کے بندوں کے لئے۔

تیرے گرد و نواح میں شرک اب پتھر کے بتوں سے نہیں، غیر اللہ کی محبتوں سے ہوتا ہے۔ انسان کو وہیں پھیر دیا گیا ہے جہاں دین کا نام ہے مگر توحید کا نور نہیں۔ لوگ صلاة پڑھ کر بھی شرک میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کے ساتھ دوسروں پر بھروسہ ہے، ان کی امیدیں مافوق الاسباب طور پر  مخلوق سے بندھی ہیں۔

میرے بھائی، جان لے کہ ایمان کا اصل چہرہ وہ ہے جو آل یاسرؓ نے دکھایا، انہوں نے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر ہر طرح کے مصائب سے گزر کر دکھایا۔ آج اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا ایمان خالص ہو تو اپنی دعا، اپنی امید، اپنی حاجت، اپنی محبت، اپنی دشمنی سب اللہ کے لئے خاص کر دے۔ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ وہ ہے جب باطل حق کی صورت میں پیش کیا جائے اور یہی آج کے شرک کی سب سے خطرناک صورت ہے۔ سو اپنے دل کے بت توڑ دے، ورنہ موت تک پہنچنے سے پہلے تیرا ایمان چھن جائے گا۔ یہ آج کے اپنے مولویوں اور پیروں کی، علماء اور مشائخ کی عقیدت کی خاموش لغزش کو ترک کر دے۔

بس تجھے فرق صرف اتنا ہی ملے گا کہ اس وقت مکہ کی گلیاں تھیں، آج سوشل محفلیں اور دنیا کے دباؤ ہیں، مگر ایمان کا معیار اب بھی وہی ہے۔ کہ ادھر زبان سے کلمہ کہے اور ادھر دل سے دنیا کا خوف نکال دے۔

Log In to Your Account