دعا ایمان اور توحید کا مرکز ہے، کیونکہ اس میں بندہ براہِ راست اپنے رب سے تعلق جوڑتا ہے۔ جب کوئی شخص اللہ کو چھوڑ کر یا اللہ کے ساتھ کسی نبی، ولی یا مردہ صالح کے وسیلے سے مانگتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنے یقین اور توکل کو کمزور کرتا ہے، بلکہ شرک کی دلدل میں جا گرتا ہے کیونکہ توکل صرف اسی پر ہوتا ہے جو سننے، جاننے اور قدرت رکھنے والا ہے اور وہ صرف اللہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
اور تمہارا رب فرماتا ہے مجھ سے دعا مانگو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
(غافر: 60)
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ دعا کا دروازہ بندوں یا وسیلوں سے نہیں بلکہ براہِ راست رب العالمین سے کھلتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔
جامع الترمذي – أبواب صفة القيامة والرقائق والورع: 2516
یعنی دعا میں کسی مخلوق کو بیچ میں لانا شرک ہے۔ نبی ﷺ اور اولیاء کرام کو عزت دینا ایمان ہے، مگر انہیں اللہ کے حضور وسیلہ بنا کر پکارنا کفر اور شرک کا دروازہ کھول دیتا ہے۔