توحید صرف یہ مان لینا نہیں کہ اللہ ایک ہے بلکہ یہ ماننا کہ اللہ ہی اکیلا معبود، حاکم، کارساز اور مختارِ حقیقی ہے اور اس کے سوا ہر باطل معبود اور انکی شریعت اور اختیارات کی نفی لازم ہے۔
:اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ
پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔
(البقرۃ: 256)
:یعنی توحید دو حصوں پر قائم ہے
نفی: ہر باطل معبود اور انکی شریعت اور مخلوقی اختیار کا انکار۔
اثبات: صرف اللہ کی الوہیت، ربوبیت، صفات اور حکم کے حق کو تسلیم کرنا۔
:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ
جس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور چیزوں کی پرستش کا انکار کردیا اس کا جان ومال محفوظ ہوگیا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
(صحیح مسلم:جلد اول:ایمان کا بیان:حدیث نمبر 133)
پس اللہ ایک ہے کہنا محض خبریہ عقیدہ ہے، مگر اللہ ہی معبودِ برحق ہے اسکے سب تمام معبودان باطلہ کی نفی کرنا عملی و اعتقادی توحید ہے، جو تب ہی مکمل ہوتی ہے جب بندہ سارے جھوٹے اختیارات، قانون سازی، سفارشیں، قبری تقدس، اور جبری شفاعتوں سے براءت اختیار کرے۔ یہی حقیقی لا إله إلا الله ہے، اثباتِ حق کے ساتھ نفیِ باطل۔