|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

جب نبی ﷺ کے زمانے میں کوئی فرقہ نہ تھا تو آج درجنوں مسالک کیوں ہیں؟

No media found.

نبی ﷺ کے زمانے میں دینِ اسلام خالص اور واحد منہج پر قائم تھا، کیونکہ وحی نازل ہو رہی تھی اور امت براہِ راست نبی ﷺ کی رہنمائی میں تھی۔ لیکن نبی ﷺ کے بعد جب لوگوں نے قرآن و سنت کے بجائے اپنی رائے، قومیت، اور شخصیات کو دین کا معیار بنانا شروع کیا تو تفرقے پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی فتنہ کی پہلے سے خبر دی تھی

وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِى مُسْتَقِيمًۭا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ الأنعام: 153

نبی ﷺ نے بھی فرمایا
وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً. قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے ایک گروہ کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سا گروہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔

جامع الترمذي – أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641

یہ فرقے اس لیے پیدا ہوئے کہ وحی کے بجائے شخصیت پرستی اور اجتہادی آراء کو معیار بنا لیا گیا۔ ہر گروہ نے اپنے امام یا مفسر کے فہم کو دین کا اصل سمجھ لیا، اور قرآن و سنت کو ثانوی بنا دیا۔

اس لیے آج اصلاح کا راستہ وہی ہے جو نبی ﷺ اور صحابہؓ کا تھا، واحد صراطِ مستقیم کی طرف لوٹنا، یعنی دین کو صرف وحی سے لینا، کسی مسلک، جماعت یا نام سے نہیں۔ یہی توحید اورمومنوں کی  اجتماعیت کا حقیقی راستہ ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account