امت میں تفرقہ اس لیے پیدا ہوا کہ مسلکی گروہ قرآن و سنت کو ماننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر عملاً ان کے فیصلوں کو چھوڑ کر اپنی آراء، مشائخ اور مسلکی روایتوں کو مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ
اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، وہی کافر ہیں۔
(المائدۃ: 44)
نبی ﷺ نے بھی اپنی امت کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا
وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً. قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے ایک گروہ کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سا گروہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
جامع الترمذي – أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641
یہی اصل فرق ہے جو لوگ قرآن و سنت کو محض دلیل کے بجائے فیصلہ اور معیارِ حق مانتے ہیں، وہ اہلِ نجات ہیں، اور جو اپنی رائے یا مسلکی اصول کو قرآن پر مقدم کرتے ہیں، وہ تفرقے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لہٰذا حقیقی اتحاد صرف اسی وقت ممکن ہے جب امت واپس قرآن، سنت اور فہمِ صحابہ کی طرف رجوع کرے۔