|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

اگر کوئی قرآن و سنت کے دلائل کو براہِ راست سمجھنا چاہے تو کیا وہ مقلد رہتا ہے؟

No media found.

قرآن کی روشنی میں واضح حقیقت یہ ہے کہ دین کا سرچشمہ صرف وحی ہے، اور بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کو براہِ راست سمجھے اور قبول کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
اگر کسی بات میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔
(النساء: 59)

یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ فیصلہ صرف وحی کے حوالے سے ہو سکتا ہے، کسی شخص یا امام کے قول پر نہیں۔ جو بندہ قرآن و سنت سے براہِ راست رہنمائی لینے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل اتباعِ رسول ﷺ میں داخل ہے، نہ کہ تقلیدِ اشخاص میں۔ مقلد وہ ہے جو دلیل کے بغیر کسی شخص کے قول کو مان لے، جب کہ متبع وہ ہے جو وحی کی دلیل کے مطابق ایمان رکھتا ہے اور عمل کرتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا

فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الامور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة
و تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے
(سنن ابي داود:كتاب السنة :حدیث: 4607)

یہی وہ راہ ہے جو صحابہؓ نے اختیار کی وہ براہِ راست قرآن و سنت سے فہم لیتے، رسول ﷺ کے اقوال و اعمال کو دلیل مانتے، اور کسی کے قول کو وحی کے برابر نہیں سمجھتے تھے۔

آج بھی اگر کوئی شخص طاغوت کا رد کرتے ہوئے خلوصِ نیت سے قرآن و سنت کے دلائل کو سمجھ کر ان پر عمل کرے، تو وہ تقلید سے آزاد اور اتباعِ رسول ﷺ میں داخل ہے۔ نجات اسی اتباع میں ہے، نہ کہ کسی مکتب یا امام کی اندھی پیروی میں۔ توحید کا تقاضا یہی ہے کہ حکم صرف اللہ اور رسول ﷺ کا مانا جائے، اور فیصلے صرف وحی سے کیے جائیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account