|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قرآن نے واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً کے حکم میں مسلکی تعصب کے لیے کیا پیغام دیا؟

No media found.

قرآنِ کریم نے امتِ مسلمہ کو ایک ہی رسی یعنی حبلُ اللہ یعنی قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا، تاکہ دین میں کوئی دراڑ نہ پڑے۔ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً کا مطلب یہی ہے کہ ایمان والوں کی وحدت صرف اللہ کی کتاب اور نبی ﷺ کی سنت پر قائم ہو، نہ کہ کسی مسلک، گروہ یا امام کی رائے پر۔ مسلکی تعصب دراصل اسی رسی کو چھوڑنے اور ٹکڑوں میں بٹ جانے کا نام ہے، جسے قرآن نے سختی سے منع فرمایا۔

:قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۠وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھٖٓ اِخْوَانًا ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِھٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ ۝
اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تم گروہ گروہ نہ بنا اور یاد کرواللہ کی نعمتوں کو جو تم پر کی ہیں جب تم دشمن تھے تو محبت تمہارے دلوں میں ڈال دی پس تم اس کی نعمت کی وجہ سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پس اللہ نے تمہیں بچالیا اس طرح تمہارے لئے اللہ اپنی آیتوں کو بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پالو۔
(آل عمران: 103)

قرآن کا یہ حکم دراصل امت کے لیے پیغامِ وحدت ہے کہ اصل تعلق اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے ہے، کسی مسلک یا شخصیت سے نہیں۔ جو شخص یا گروہ اپنی شناخت کو قرآن و سنت سے بڑھا کر کسی نام یا فقہی جماعت سے وابستہ کر لیتا ہے، وہ حبلُ اللہ سے ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔ توحید کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ صرف وحی سے جڑے، نہ کہ گروہی شناخت سے۔ مسلکی تعصب اس آیت کی روح کے خلاف اور امت کی اجتماعیت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account