اللہ تعالیٰ نے منافقین کے انجام کو نہایت عبرت ناک انداز میں بیان فرمایا ہے کہ
يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔ تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان کے بعد کفر کیا تھا؟ سو چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کرتے تھے۔
(آل عمران :106)
یعنی قیامت کے دن منافق کے چہرے پر سیاہی، ذلت اور خوف کی علامت ظاہر ہوگی۔ یہ اس کے باطن کے نفاق کا ظاہری نقش بن جائے گا۔ جہاں مومن کے چہرے نورانی ہوں گے، وہاں منافق کے چہرے سیاہ اور بگڑے ہوئے ہوں گے۔ پس منافق کا چہرہ اس کی نیت کی سیاہی کا عکس ہوگا، جو دنیا میں ایمان کے دعوے کے باوجود دل میں کفر چھپائے بیٹھا تھا۔