قرآن اور حدیث کی روشنی میں، جنت میں داخل ہونے کے بعد اہلِ ایمان کا پہلا کلمہ سلام ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا
وہ ان (باغات) میں کوئی بےہودہ بات اور کوئی گناہ کی بات نہیں سنیں گے، مگر ایک بات ہوگی سلامتی ہی سلامتی کی۔
(الواقعة: 25–26)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، رَجُلٌ يَخْرُجُ حَبْوًا ، فَيَقُولُ لَهُ رَبُّهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ: رَبِّ الْجَنَّةُ مَلْأَى ، فَيَقُولُ لَهُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَكُلُّ ذَلِكَ يُعِيدُ عَلَيْهِ: الْجَنَّةُ مَلْأَى ، فَيَقُولُ: إِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا عَشْرَ مِرَارٍ
جنت میں سب سے بعد میں داخل ہونے والا اور جہنم سے سب سے بعد میں نکلنے والا وہ شخص ہو گا جو گھسٹ کر نکلے گا، اس سے اس کا رب کہے گا جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا میرے رب! جنت تو بالکل بھری ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لیے دنیا کے دس گنا ہے۔
صحيح بخاری:كتاب التوحيد:حدیث: 7511
یہ سلامتی کا کلمہ نہ صرف خوش آمدید ہے بلکہ جنت میں امن، اطمینان اور ابدی سکون کی نشانی بھی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنت میں کوئی خوف، غصہ یا حسد نہیں ہوگا، صرف اللہ کی رضا اور رحمت کے سائے میں خوشی ہوگی۔