قرآن میں قیامت کے دن قبر سے دوبارہ اٹھائے جانے کو بَعْثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ زندگی کے دوبارہ شروع ہونے اور مردوں کے زندہ کیے جانے کا اعلان ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
پھر یقیناً تم مر جاؤ گے، پھر قیامت کے دن تم اٹھائے جاؤ گے۔ سورۃ المؤمنون: 15-16
یہ بعث اس امر کی علامت ہے کہ انسان کا وجود جو فنا ہو گیا تھا وہ اللہ کے حکم سے مٹی سے دوبارہ وجود پاتا ہے، تاکہ اسے اپنے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا
لوگ قیامت کے دن ننگے، پاؤں برہنہ اور بےختنہ جمع کیے جائیں گے۔
صحيح البخاري – كتاب الرقاق – باب كيف الحشر: 6527
یہ بعث انسان کے لیے یاد دہانی ہے کہ موت انجام نہیں بلکہ آغاز ہے۔قرآن میں قیامت کے دن قبر سے دوبارہ اٹھائے جانے کو بَعْثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ زندگی کے دوبارہ شروع ہونے اور مردوں کے زندہ کیے جانے کا حقیقی اعلان ہے۔یہ بعث انسان کے لیے یاد دہانی ہے کہ موت انجام نہیں بلکہ آغاز ہے۔