|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

نبی ﷺ نے امت کے فتنوں کو کن نشانیوں میں شمار کیا ہے؟

No media found.

نبی ﷺ نے امت کے باہمی اختلافات، جھوٹے دعووں، اور دین سے دوری کو قیامت کی نشانیوں میں شمار فرمایا، کیونکہ یہ ایمان کی کمزوری اور باطل کی غلبے کی علامتیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ
محمد ﷺ تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے، تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم اپنے پاؤں کے بل پلٹ جاؤ گے؟
(آل عمران :144)

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی ﷺ کے بعد امت میں ایسے فتنے آئیں گے جن میں لوگ اپنے ایمان، قیادت، اور اطاعت کے پیمانے بدل لیں گے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا

سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي وَمَنْ يُشْرِفْ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ وَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ

عنقریب فتنے آئیں گے، ان میں بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو شخص فتنوں کی طرف جھانکے گا، فتنے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ اور جو کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا کوئی ذریعہ پائے تو اسے چاہیے کہ اس میں پناہ لے لے۔

 صحيح البخاري:كتاب المناقب:حدیث: 3601

یہی فتنہ پروری جھوٹے مدعیانِ نبوت، دینی انتشار، مال و دنیا کی حرص، اور امت کا فرقوں میں بٹ جانا وہ علامات ہیں جنہیں نبی ﷺ نے قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں شمار فرمایا۔

یہ فتنوں کا دور ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ نجات صرف قرآن و سنت پر ثابت قدمی اور فہمِ صحابہؓ کی پیروی میں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُم بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي
میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
(موطا امام مالک، حدیث: 1594)

Video Short Clips

Log In to Your Account