قرآن میں یومُ الحسرۃ (یعنی حسرت کا دن) قیامت کی اس ہولناک گھڑی کو ظاہر کرتا ہے جب کافر اور گناہگار اپنی غفلت پر پچھتائیں گے، مگر اس وقت رجوع کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ یہ وہ دن ہوگا جب انسان دیکھے گا کہ اس نے دنیا میں ایمان اورعملِ صالح کے بدلے کیا کھو دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُوَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنََ
اور انہیں حسرت کے دن سے ڈراؤ، جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ غفلت میں ہوں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔
(مریم: 39)
یعنی یوم الحسرة وہ لمحہ ہوگا جب فیصلے ہو چکے ہوں گے، جنت و جہنم کا فیصلہ صادر ہو جائے گا، مگر کافر اور غافل بندے کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایمان اورعمل کی فرصت صرف دنیا میں ہے۔ قیامت کے دن پچھتاوا، ندامت اور حسرت سب بے فائدہ ہوں گے کیونکہ اس دن عدل تو ہوگا، مگر واپسی نہیں۔