قیامت کے دن ہر شخص کو اُس کے اعمال نامے دیے جائیں گے تاکہ کوئی ظلم نہ ہو۔ یہ دن عدلِ الٰہی کا دن ہوگا جہاں سب کے اعمال ظاہر کر دیے جائیں گے۔ مومن کو اُس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جو اُس کے ایمان اور کامیابی کی نشانی ہے، جبکہ کافر اور منافق کو بائیں ہاتھ یا پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا جو رسوائی اور عذاب کی علامت ہے۔
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا وَّيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا وَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَاۗءَ ظَهْرِهٖ فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا وَّيَصْلٰى سَعِيْرًا
پھر جس شخص کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا، اور وہ خوشی میں مگن اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹے گا، اور جس کو اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا۔ تو وہ موت کو پکارے گا، اور وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
(الانشقاق: 7–12)
ان آیات میں اللہ نے مومن و کافر کے انجام کو واضح کر دیا: مومن کا حساب آسان ہوگا اور وہ خوشی سے اپنے اہل کی طرف لوٹے گا، جب کہ کافر حسرت و ندامت میں ’’ہلاکت‘‘ پکارے گا اور آگ میں جھونک دیا جائے گا۔
یہ اس بات کی تنبیہ ہے کہ دنیا میں انسان کے ہر قول و عمل کا حساب ہونا ہے۔ جو بندہ ایمان، اخلاص اور توحید پر قائم رہا، اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اور جو تکبر، شرک، ظلم اور گناہ میں ڈوبا رہا، وہ بائیں ہاتھ والوں میں ہوگا۔ یہ مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نجات کا راستہ صرف توحید، اخلاصِ نیت، اور سنتِ رسول ﷺ پر استقامت میں ہے۔ جو بندہ دنیا میں اپنے اعمال کی اصلاح کرتا ہے، قیامت کے دن اُس کے لیے کوئی خوف نہیں۔