قیامت کے دن زمین اپنے اندر کے تمام بوجھ، یعنی مردوں کی لاشیں، دفن شدہ خزانے اور راز سب ظاہر کر دے گی، کچھ بھی چھپا نہ رہ جائے گا۔ یہ منظر انسان کے اعمال کے انکشاف کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا
جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی، اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی، اور انسان کہے گا: اسے کیا ہو گیا ہے؟
(الزلزال :1-3)
حقیقت یہ ہے کہ زمین اللہ کے حکم سے گواہی دینے والی مخلوق ہے؛ وہ اس دن اپنے رب کے سامنے تمام چھپے اعمال ظاہر کر دے گی۔ اس لیے ایمان والوں کو دنیا ہی میں اپنے اعمال کا محاسبہ کر لینا چاہیے، تاکہ زمین کے بوجھ میں ان کے گناہوں کی گواہی شامل نہ ہو۔