|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قومِ ثمود کے سرداروں نےصالح علیہ السلام کے بارے میں کیا کہا تھا؟

No media found.

جب صالح علیہ السلام نے اپنی قومِ ثمود کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور نبی کے لائے ہوئے احکام پر ایمان لائیں، تو ان کی قوم کے سرداروں نے تکبر اور استہزا کے ساتھ کہا

قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِمَنِ ءَامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَـٰلِحًۭا مُّرْسَلٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِۦ مُؤْمِنُونَ، قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا بِٱلَّذِىٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ

ان کی قوم کے وہ سردار جو بڑے بنے ہوئے تھے، انہوں نے کمزور ایمان والوں سے کہا کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں، ہم ان کے بھیجے جانے پر ایمان رکھتے ہیں۔ سرداروں نے کہا ہم اس پر ایمان نہیں لاتے جس پر تم ایمان لائے ہو۔
(الاعراف: 75–76)

ان کی یہ بات دراصل تکبر، طبقاتی غرور اور نبی کی حقانیت سے انکار کا اظہار تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہدایت صرف ان کے منصب والوں کے لیے ہونی چاہیے، کمزور لوگوں کے لیے نہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ایمان کا معیار دولت یا مرتبہ نہیں، بلکہ حق کی پہچان اور اس پر عمل ہے۔ جو قوم نبی کی دعوت کو غرور کے باعث ٹھکرا دیتی ہے، وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account