نوح علیہ السلام کی قوم میں ان کی طویل دعوت (۹۵۰ سال) کے باوجود بہت تھوڑے لوگوں نے ایمان قبول کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ
اور ان پر ایمان نہیں لائے تھے مگر بہت کم لوگ
(ہود: 40)
نوح علیہ السلام نے دن رات، علانیہ اور خفیہ طور پر اپنی قوم کو دعوت دی، مگر ان کے سرداروں نے تکبر کیا اور کہا
مَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ
ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیروکار وہی کمزور لوگ ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔
(ہود: 27)
یعنی قوم نے مال و مرتبے کی بنیاد پر حق کو ٹھکرا دیا، اور ایمان کو صرف غریبوں کا کام سمجھا۔ مگر اللہ نے انہی قلیل ایمان والوں کو نجات دی اور باقیوں کو طوفان میں غرق کر دیا۔ حق اکثریت سے نہیں بلکہ ایمان و صبر سے پہچانا جاتا ہے۔