قومِ سبا کی ناشکری کی سب سے بڑی علامت یہ تھی کہ اللہ نے انہیں سرسبز و شاداب بستیوں اور نعمتوں سے نوازا، مگر انہوں نے شکر کے بجائے کفرانِ نعمت کیا، دنیا کی آسائشوں میں گم ہو کر توحید سے منہ موڑ لیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌۖ جَنَّتَانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمَالٍۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ
سبا والوں کے لیے ان کے مسکن میں ایک نشانی تھی دو باغ دائیں اور بائیں، (کہا گیا) اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، یہ پاکیزہ بستی اور بخشنے والا رب ہے۔ مگر انہوں نے منہ موڑ لیا تو ہم نے ان پر سیلِ عَرِم (تباہ کن سیلاب) بھیج دیا۔
(سبأ: 15-16)
یعنی شکر کے بجائے نافرمانی، تکبر اور مادی غرور ان کا شیوہ بن گیا۔ انہوں نے توحید کے پیغام کو چھوڑ کر آسائشوں کو اپنا معبود بنا لیا۔ نتیجتاً اللہ نے ان کی جنتوں کو برباد کر کے ان کے باغوں کو خاردار درختوں اور کڑوے پھلوں میں بدل دیا۔ یہی وہ سبق ہے جو اہلِ ایمان کے لیے رہتی دنیا تک ہے کہ اللہ کی نعمتیں شکر سے بڑھتی ہیں اور کفرانِ نعمت سے زائل ہو جاتی ہیں۔