اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کیا ہے کہ جب موسیٰؑ طور پر اللہ کی ملاقات کے لیے گئے تو ان کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل گمراہی میں پڑ گئے اور ایک سنہری بچھڑے کو معبود بنالیا۔ اس فتنہ کو برپا کرنے والا سامری نامی شخص تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰـــهُكُمْ وَاِلٰهُ مُوْسٰى ۥ فَنَسِيَ
پھر سامری لوگوں کے لیئے ایک بچھڑے جیسا جسم نکال لایا، جس کی گائے جیسی آواز تھی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہی ہے تمہارا رب، اور موسیٰ کا رب موسیٰ بھول گئے ہیں۔
(طه: 88)
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان جب اللہ کی توحید پر قائم نہ رہے اور نبی کی رہنمائی سے ہٹ جائے تو فتنہ و شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی یہ روش اسی ضد اور سرکشی کا نتیجہ تھی جس کی وجہ سے بارہا وہ گمراہی میں پڑے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی امت کو یہی تنبیہ فرمائی کہ پچھلی امتوں کے فتنوں سے بچو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا شبرا، وذراعا بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتموهم، قلنا: يا رسول الله، اليهود، والنصارى، قال: فمن
تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔
(صحيح البخاري:كتاب الاعتصام:حدیث: 7320)
نتیجہ یہ ہے کہ سامری نے بچھڑے کی پوجا کا فتنہ کھڑا کیا اور بنی اسرائیل نے توحید کے واضح پیغام کے باوجود شرک میں گر کر اللہ کا غضب کمایا۔ آج بھی اگر مسلمان نبی ﷺ کی سنت اور صحابہؓ کے فہم سے ہٹ کر اپنی خواہشات یا بدعات کے پیچھے لگیں گے تو وہ بھی اسی طرح کے فتنوں میں مبتلا ہوں گے۔