قرآن کے بیان کے مطابق فرشتے ابراہیمؑ کے پاس دو خبریں لے کر آئے تھے ایک قومِ لوط کی ہلاکت کی خبر اور دوسری بیٹے (اسحاقؑ) کی ولادت کی خوشخبری۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
اور اس کی (ابراہیمؑ کی) بیوی کھڑی ہوئی تھیں تو ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔
(ھود: 71)
یعنی ابراہیمؑ اور ان کی اہلیہ کو بڑھاپے میں بیٹے کی خوشخبری دی گئی، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اس بیٹے کے بعد پوتا (یعقوبؑ) بھی عطا ہوگا۔ اس واقعے میں اہلِ ایمان کے لیے یہ سبق ہے کہ اللہ کے وعدے ناممکن اسباب میں بھی پورے ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو دنیا میں بھی خیر و برکت کی بشارت دیتا ہے، مگر اصل کامیابی ایمان اور عملِ صالح سے جڑی ہے۔