طالوت اور جالوت کے واقعہ میں سب سے بڑا قرآنی سبق یہ دیا گیا ہے کہ کامیابی توحید، صبر اور یقین سے ملتی ہے، نہ کہ بڑی فوج یا دنیاوی طاقت سے۔ بنی اسرائیل میں سے صرف وہی لوگ جالوت کے مقابلے میں ڈٹے جو اللہ پر بھروسہ رکھنے والے اور صبر کرنے والے تھے، اور اللہ نے انہیں کم تعداد کے باوجود فتح عطا کی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ڐ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَاۗءُ ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ
کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت غالب آئی ہے اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب وہ جالوت اور اُس کے لشکروں کے مقابل آئے تو عرض کر نے لگے اے ہمارے ربّ ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافر قوم کے مقابلہ میں ہماری نصرت فرما۔ تو انھوں نے اللہ کی توفیق سے ان (کافروں) کو شکست سے دوچار کردیا اور داؤد (علیہ السّلام ) نے جالوت کو قتل کیا اور اللہ نے اُنھیں سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور جو کچھ چاہا اُنھیں سکھایا اور اگر اللہ لوگوں میں سےبعض کے ذریعہ بعض کودفع نہ کرے تو زمین ضرور (فساد سے) برباد ہو جائے لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ (البقرہ: 249 تا251)
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اصل مدد اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اگر ایک چھوٹی جماعت بھی توحید اور صبر پر قائم رہے تو بڑے سے بڑا باطل اس کے سامنے ٹک نہیں سکتا۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ مسلمان اپنی کامیابی کو صرف اللہ کی نصرت اور تقویٰ سے وابستہ سمجھے، نہ کہ دنیاوی وسائل اور بڑی طاقتوں سے۔