قومِ مدین، جس کے نبی شعیبؑ تھے، بنیادی طور پر معاشی بددیانتی اور ناپ تول میں کمی کے گناہ میں مبتلا تھی،اس سے بڑھ کر ساتھ ہی شرک اور نافرمانی میں بھی ڈٹی ہوئی تھی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے، پس پورا ناپ تول دو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔ (الاعراف: 85)
ان کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ ناپ تول میں خیانت کرتے، تجارت میں دھوکہ دیتے اور دولت کے لالچ میں عدل و حق پامال کرتے تھے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں گے تو قحط اور سختی ان پر مسلط کر دی جائے گی۔ (ابن ماجہ، حدیث: 4019)
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قومِ مدین کا جرم صرف ایک تجارتی بددیانتی نہیں تھا بلکہ اللہ کے حکم کی کھلی نافرمانی تھی۔ آج بھی جب معاشرے میں کاروباری دھوکہ، ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی عام ہو تو وہی عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔