|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا گیارہویں، بارہویں، یا چالیسویں کی محفل سنت ہے؟

No media found.

قرآن و سنت کی روشنی میں گیارہویں، بارہویں یا چالیسویں وغیرہ کی محفل کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ رسول اللہ ﷺ نے، نہ صحابہ کرامؓ نے، نہ تابعین نے، اور نہ ہی قرونِ اولیٰ میں ایسے اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ اس لیے ایسی محافل سنت نہیں بلکہ دین میں نئی ایجاد (بدعت) ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں وہ چیز مقرر کی جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(الشورى: 21)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا

وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
اور تم نئی پیدا کی گئی چیزوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(سنن ابی داود 4607، صحیح)

لہٰذا گیارہویں، بارہویں یا چالیسویں کی محفل کو دین کا حصہ سمجھنا بدعت ہے، شریعت میں اضافہ ہے، جو کہ سخت گمراہی ہے۔ دین وہی ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے، باقی سب بعد میں گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account