یہ عقیدہ قرآن و سنت سے ثابت نہیں بلکہ صوفیانہ روایات اور بعد کے لوگوں کی خود ساختہ تقسیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اہلِ ایمان کے درجات واضح فرما دیے ہیں
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُو۟لَـٰٓئِكَ رَفِيقًۭا
اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے: نبیوں کے ساتھ، صدیقوں کے ساتھ، شہیدوں کے ساتھ اور صالحین کے ساتھ، اور یہ لوگ کتنے اچھے رفیق ہیں۔
(النساء: 69)
یہاں اللہ نے چار طبقات بیان کیے نبی، صدیق، شہید اور صالحین۔ یہ وہ بلند درجے ہیں جنہیں ماننا ایمان کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ کسی غوث، قطب یا ابدال کا ذکر نہ قرآن میں ہے، نہ صحیح احادیث میں۔ یہ محض بدعت ہے۔
یہ مراتب بعد کے ادوار میں ایجاد ہوئے اور صوفیانہ خانقاہی نظام میں مشہور کر دیے گئے۔ لیکن دین میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کے سوا کسی کا اضافہ مردود ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز داخل کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری 2697، صحیح مسلم 1718)
اسی طرح ایک اور روایت میں فرمایا
إياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة
تم نئی باتوں (بدعات) سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(سنن ابوداود 4607)
یہ عقیدہ دراصل امت میں شرک اور غلو کا دروازہ کھولتا ہے۔ جب بندہ یقین کرے کہ کچھ خاص اولیاء کو غوث الاعظم یا قطب المدار جیسی الوہی طاقتیں حاصل ہیں، تو وہ ان سے حاجتیں مانگنے لگتا ہے، مدد کے لیے پکارنے لگتا ہے، اور یوں
إياك نعبد وإياك نستعين
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ (الفاتحہ: 5) کے اصل تقاضے کو توڑ دیتا ہے۔
یہ وہی راستہ ہے جس پر اہلِ کتاب چلے کہ انہوں نے اپنے علما اور مشائخ کو رب کا درجہ دے دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں واضح کیا کہ درجہ بندی صرف اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر ہے ایمان، عمل صالح اور تقویٰ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ
بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
(الحجرات: 13)
سب سے بڑا مرتبہ کسی غوث یا قطب کا نہیں بلکہ سب سے زیادہ تقویٰ والے کا ہے۔
لہٰذا غوث، قطب اور ابدال جیسے عقائد قرآن و حدیث سے ثابت نہیں بلکہ یہ بدعت اور شرک کی جڑ ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو خالص توحید پر قائم رکھے اور صرف ان مراتب کو مانے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بیان فرمائے۔