|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا امت کا زوال عقیدہ کی کمزوری سے ہے؟

No media found.

جی، امت کا سب سے بڑا زوال عقیدہ کی کمزوری اور توحید سے انحراف کے سبب ہے۔ جب ایمان کی بنیاد کمزور ہو جائے تو عبادات اور اعمال بھی بےروح ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اور اللہ ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کے لیے وہ باتیں واضح نہ کر دے جن سے انہیں بچنا ہے، بےشک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
(التوبہ: 115)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا… قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ قَالُوا وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ
قریب ہے کہ مختلف قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ اس دن تم بہت زیادہ ہو گے، لیکن تمہاری حیثیت ایسی ہو گی جیسے سیلاب کا جھاگ۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا۔ صحابہؓ نے پوچھا: وہن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے کراہت۔
(سنن ابی داؤد، حدیث: 4297)

یعنی امت کی کثرت کے باوجود اس کا اثر ختم ہو جائے گا کیونکہ دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے نفرت غالب آ جائے گی، جو عقیدے کی کمزوری کی سب سے بڑی علامت ہے۔

لہٰذا امت کا اصل زوال ایمان اور توحید کی کمزوری سے ہے، اور اس کی بحالی بھی صرف خالص عقیدہ کی درستگی سے ممکن ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account