موت کے بعد روح کے دوبارہ دنیاوی جسم میں لوٹ آنے کا سوال توحید، آخرت، اور برزخ کے بنیادی اصول سے جڑا ہوا ہے، اور اس مسئلے میں انسان کا گمان نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا بیان فیصلہ کن ہوتا ہے۔ جب موت کا دروازہ کھل جاتا ہے تو بندے کا سفر دنیا سے کٹ جاتا ہے اور روح کو برزخ کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے، اور کسی بھی انسان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ روح کی واپسی کا تصور اپنی طرف سے قائم کرے۔
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ
(یہ لوگ باز نہیں آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو وہ کہے گا میرے رب ! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے۔ تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں، اس میں نیک کام کرلوں۔ ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہوگا، اور ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے اس دن تک کے لیئے ایک پردہ ہے جس دن انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔(المؤمنون 99–100)
یہ فیصلہ کن نص یہ واضح کر دیتی ہے کہ موت کے بعد دنیا میں واپسی کا دروازہ بند ہے۔ قرآن کا یہ (کَلَّا) صریح انکار ہے کہ روح دنیاوی جسم میں قیامت سے پہلے دوبارہ لوٹے۔ لہذا روح دنیا کے جسم میں واپس نہیں آتی، نہ گھروں میں گھومتی ہے، نہ انسانوں میں حلول کرتی ہے، اور نہ دوبارہ دنیاوی نظام کے تحت زندگی اختیار کرتی ہے۔فرقوں کے اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں، اصل عقیدہ و نظریہ یہی ہے کہ روح اللہ کے قبضے میں ہے، اور موت کے بعد اس کی منزل عالمِ برزخ ہے، نہ کہ دوبارہ دنیا کی طرف واپسی یا جسم میں حلول کرنا۔ جو لوگ روح کی واپسی کو مانتے ہیں وہ دراصل اس دروازے کو کھول دیتے ہیں جس سے تناسخ، حلول، اولیاء کی روحوں کے تصرف جیسے باطل عقائد جنم لیتے ہیں جبکہ یہی راستے شرک کی طرف لے جانے والا زہریلا راستہ ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں موت کے بعد روح کا دنیاوی جسم میں لوٹ آنا ممکن نہیں۔