|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا قبرستان میں داخل ہوتے ہوئے سلام کرنا سماعِ موتی کی دلیل ہے؟

No media found.

دراصل سلام کی پانچ اقسام ہیں
سلامِ تحیہ: وہ سلام جو کرنا سنت اور اسکا جواب دینا واجب ہے
وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا۝
اور جب کوئی شخص تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ سے جواب دو یا کم از کم اسی طرح، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے ۔ (النساء-86)
وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ۝
اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انھوں نے بھی جواب میں سلام کہا، ابھی کچھ دیر نہیں ہوئی تھی کہ (ابراہیم (علیہ السلام) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ (ھود-69)

سلامِ مُتَارکت: ترک کرنے والا سلام
قَالَ سَلٰمٌ عَلَيْكَ ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ۭاِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا۝
ابراہیم نے کہا : میں آپ کو (رخصت کا) سلام کرتا ہوں۔ میں اپنے پروردگار سے آپ کی بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔(مریم:47)
وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ۝
اور جب وہ کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں، اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ ہم تمہیں سلام کرتے ہیں، ہم نادان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔ (القصص:55)

سلام دعائیہ: اس میں جواب فرض نہیں
دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝
اس میں (داخلے کے وقت) ان کی پکار یہ ہوگی کہ : یا اللہ ! تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے اور ایک دوسرے کے خیر مقدم کے لیے جو لفظ وہ بولیں گے، وہ سلام ہوگا، اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ (یونس:10)

4- سلامِ رحمت: وہ سلام جو صرف اللہ بھیجتا ہے
سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ۝
(کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو نوح پر دنیا جہان کے لوگوں میں۔ (الصافات:79)
سَلٰمٌ عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ۝
سلام ہو ابراہیم پر۔(الصافات:109)
سَلٰمٌ عَلٰي مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ۝
سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر! (الصافات:120)
سَلٰمٌ عَلٰٓي اِلْ يَاسِيْنَ۝
سلام ہو الیاسین پر ! (الصافات:130)
وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ۝
اور سلام ہو پیغمبروں پر۔ (الصافات:181)

سلامِ خوش آمدید: کسی کے استقبال کے لیے جو سلام کیا جائے۔
تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا۝
جس دن مومن لوگ اللہ سے ملیں گے اس دن ان کا استقبال سلام سے ہوگا، اور اللہ نے ان کے لیے باعزت انعام تیار کر رکھا ہے۔ (الاحزاب:44)
یا کا صیغہ ضروری نہیں کے کسی ایسی چیز کے لیے استعمال کیا جائے جو کہ سننے والا بھی ہو(لغت کے امام رازی)

سلامِ اہل قبور پر شبہ کا ازالہ
قبرستان میں کیا جانے والا سلام :اسلام علیکم یا اہل القبور
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ سلام دعائیہ ہے نہ کہ سلام تحیہ ،کیونکہ سلام تحیہ میں جواب دینا ضروری ہے۔
سلام میں اگر سماع شرط ہے تو میت بھی سلام کے جواب میں سلام ہی کرےگی وہ ہم تو نہیں سنتے تو اس الزامی جواب سے بھی معلوم ہوا کہ سلام میں سماع شرط نہیں ہے۔

اہلِ قبور: قبر والے نہیں سنتے
اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ۝
یاد رکھو کہ تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں۔ (النمل:80)
وَمَا يَسْتَوِي الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ۝
اور زندہ لوگ اور مردے برابر نہیں ہوسکتے، اور اللہ تو جس کو چاہتا ہے بات سنا دیتا ہے، اور تم ان کو بات نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں۔ (فاطر:22)

Video Short Clips

Log In to Your Account