اس بات کو یوں سمجھ لیں کہ اسی مسئلے پر خود اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآنِ مجید کی ایک آیت سے قطعی اور فیصلہ کن حکم قائم کیا ہے، اور جب صحابہؓ میں سے ایک شخصیت آیت سے براہِ راست حکم اخذ کر دے تو وہی شرعی فیصلہ معتبر ہوتا ہے۔ ام المومنین عائشہؓ نے سورۃ النمل کی درج ذیل نصّ کو حکمِ قطعی قرار دیا۔
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ
بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔
(سورۃ النمل 80)
انہوں نے اس آیت کو دلیل بنا کر یہ واضح کیا کہ مردے نہیں سنتے، اور یہی اسلامی عقیدہ ہے۔ اس پر صحیح بخاری میں ان کا موقف صراحت سے مذکور ہے۔
صحیح بخاری، حدیث 3980 ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے بدر کے مقتولین سے خطاب کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سنتے تھے بلکہ اپنے انجام کو جان گئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرما چکا ہے۔ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔
اس سے دو بنیادی نکات قطعی طور پر ثابت ہوتے ہیں:
صحابہؓ میں سب سے فقیہ، سب سے معتبر، اور نبی ﷺ کی سنت کی سب سے زیادہ واقف شخصیت ام المومنین عائشہؓ نے اس آیت کو سماعِ موتی کے باب میں فیصلہ کن نص قرار دیا۔
قرآنِ مجید نے مردوں کی سماعت کی نفی کو صاف، قطعی اور اصولی انداز میں بیان کیا ہے۔
ام المومنین عائشہؓ نے اسی قرآنی نص سے حکمِ عقیدہ اخذ کیا، اس سے ثابت ہوا کہ یہ مسئلہ نہ ظنی ہے، نہ فروعی، بلکہ قطعی الدلالة ہے۔
چنانچہ قرآن نے جو نفی کی، ام المومنین عائشہؓ نے اسی کو معیارِ حکم قرار دیا، اور بخاری کی روایت نے اس نفی کو قطعی اور حتمی بنا دیا: مردوں کا سننا ثابت نہیں۔ یہ فیصلہ کن نص قرآن ہی ہے۔