نجات کا دار و مدار صرف اور صرف قرآن و سنت کی خالص پیروی پر ہے، کسی مخصوص مسلک یا فرقے سے وابستگی پر نہیں۔ دین میں معیارِ حق وہی ہے جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے مقرر کیا، نہ کہ کوئی فقہی گروہ یا فکری جماعت۔ جو شخص کسی مسلک یا پیشوا کی رائے کو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم پر مقدم کرتا ہے، وہ دراصل طاغوت کی پیروی کرتا ہے، کیونکہ قرآن نے ہر اُس راہ کو طاغوت قرار دیا ہے جو اللہ کے حکم کے مقابلے میں کھڑی ہو۔
اللہ نے فرمایا کہ
فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ
جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقیناً اُس نے ایسے مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی نہیں ٹوٹے گا، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
(البقرۃ: 256)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي
میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
(موطأ امام مالک: 1594)
اسلام میں نجات صرف اُس کے لیے ہے جو طاغوت یعنی اللہ کے مقابلے میں کسی اور کی اطاعت کو رد کر کے وحیِ الٰہی کے تابع ہو جائے۔ مسلک یا فرقہ اگر وحی کے تابع ہے تو وہ اسلام کا حصہ ہے، لیکن اگر وہ اپنے پیشواؤں کی رائے کو وحی پر مقدم کرتا ہے تو وہ گمراہی کا راستہ ہے۔ نبی ﷺ کی امت میں نجات یافتہ وہی گروہ ہے جو ما أنا عليه وأصحابي یعنی نبی ﷺ اور صحابہؓ کے منہج پر قائم ہو۔ یہی قرآن و سنت کی خالص پیروی ہے، اور اسی سے ہٹ کر ہر مسلکی وابستگی طاغوت کی بندگی ہے۔