|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا اختلاف کے باوجود اتحاد ممکن ہے؟

No media found.

جی ہاں، اختلاف کے باوجود اتحاد ممکن ہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب اختلاف اجتہادی یا فروعی مسائل میں ہو، عقیدے اور توحید کی بنیاد میں نہ ہو۔

قرآن کہتا ہے
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔
(آل عمران: 103)
یہ اللہ کی رسی قرآن و سنت اور عقیدۂ توحید ہے۔ اسی پر اتحاد کا حکم ہے، نہ کہ باطل نظریات پر۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا . وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ
بے شک ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرکے دکھائیں۔
 صحيح البخاري – كتاب الصلاة – باب تشبيك الأصابع في المسجد وغيره: 481

لہٰذا فروعی اختلافات کے باوجود اہلِ حق میں اتحاد ممکن ہے، لیکن عقیدے میں اختلاف (جیسے شرک، بدعت یا ختمِ نبوت کا انکار) کے ساتھ اتحاد جائز نہیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account