شہداء کی روحوں کی واپسی کا عقیدہ قرآن و حدیث میں ثابت نہیں، اور نہ صحابہؓ میں اس کا کوئی اثر موجود ہے۔ شہید کا مقام بلند ہے، مگر اس بلندی کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی روح دنیا میں آتی جاتی ہے یا کسی طرح دنیاوی معاملات انجام دیتی ہے۔ قرآن نے شہداء کے بارے میں جو بیان دیا ہے، وہ عالمِ برزخ کی زندگی کا بیان ہے۔ دنیا میں واپسی نہیں۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًاۚ بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں اُن کو ہرگز نہ سمجھنا کہ وہ مُردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں (اور) وہ اپنے ربّ کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔(آل عمران 169)
یہ آیت شہداء کی (عند ربّهم ، یعنی اللہ کے پاس جنت) زندگی بیان کرتی ہے یعنی وہ اللہ کے پاس رزق پاتے ہیں۔ آیت نے واضح کیا کہ اُن کی زندگی دنیا کی نہیں، بلکہ رب کے پاس جنت کی ہے۔
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی؛ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا، آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قندیلں لٹکی ہوئی ہیں، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہم (اور) کیا خواہش کریں، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور کھاتے پیتے ہیں۔ اللہ نے تین بار ایسا کیا (جھانک کر دیکھا اور پوچھا۔) جب انہوں نے دیکھا کہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا، ان سے سوال ہوتا رہے گا تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے یہاں تک کہ ہم دوبارہ تیری راہ میں شہید کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔(صحيح مسلم:كتاب الإمارة: باب في بيان ان ارواح الشهداء في الجنة وانهم احياء عند ربهم يرزقون:حدیث: 4885)
اس حدیث میں شہداء کی روحوں کا مقام جنت کی سیر بتایا گیا ہے۔ نہ قبر کا چکر، نہ دنیا کا دورہ، نہ کسی انسان کے پاس آنا جانا۔ یہی روایت صحابہؓ کے ایمان کا مرکز تھی اور انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ شہید کی روح دنیا میں کسی کو ملی ہے یا واپس آئی ہے۔ آج کچھ حلقوں نے شہداء کی روحوں کی (مدد، واپسی، تجویز، یا دنیا میں گھومنے) کا عقیدہ بنا لیا ہے، مگر یہ عقیدہ نہ قرآن سے ثابت ہے نہ سنت سے اور نہ ہی کسی صحابیؓ کے طریقے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ وہی باطل تصورات ہیں جنہوں نے مردوں کو زندوں پر نگران بنا کر ایمان خالص کے دروازے بند کر دیے۔شہداء کی روحیں جنت کی نعمتوں میں رہتی ہیں، دنیا میں نہیں لوٹتیں، نہ مدد کرتی ہیں، نہ زندوں سے کوئی رابطہ رکھتی ہیں۔ دنیاوی واپسی کا عقیدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے، اور خالص ایمان یہی ہے کہ زندگی اور موت کے بعد سارے اختیارات صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔