اس مسئلے میں صحابہؓ و تابعینؒ کے مستند اور ثابت شدہ اقوال کو اگر اصولِ حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عقیدے کے باب میں سماعِ موتی پر کوئی معتبر اختلاف موجود نہیں۔ چند ضعیف آثار یا غیر محقق اقوال کا ذکر بعض مصنفات میں مل جاتا ہے، مگر وہ نہ تو سنداً قائم ہیں، نہ ان پر کوئی فقیہِ صحابیؓ یا معتبر تابعیؒ دلیل کے طور پر قائم ہوا، اس لیے انہیں اختلاف قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اہلِ علم کے ہاں اصول یہ ہے کہ عقیدہ صرف اُس قول سے بنتا ہے جس کی قرآن سے تائید ہو اور جو صحابہؓ سے صحیح سند سے ثابت ہو۔
اس مسئلے میں دلیل کی بنیاد قرآن کی قطعی نص ہے جسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود عقیدے کا فیصلہ کن معیار بنایا إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ (النمل 80)۔ جب قرآن کا حکم قطعی ہو جائے تو اس کے خلاف کوئی قول یا اثر معتبر نہیں رہتا، اس لیے صحابہؓ کے ہاں بھی اس آیت کے مقابلے میں کوئی معارض قول ثابت نہیں۔ صحیح بخاری (حدیث 3980) میں ام المومنین عائشہؓ نے وہ تمام اقوال رد کر دیے جو یہ وہم دیتے ہوں کہ مردے سنتے ہیں، اور فرمایا کہ اللہ نے نفی فرما دی ہے، لہٰذا اصل عقیدہ یہی ہے کہ مردے نہیں سنتے۔
تابعینؒ کے دور میں بھی یہی موقف مسلسل چلا ہے۔ سعید بن المسیّبؒ، حسن بصریؒ، عطاءؒ، نخعیؒ، اور قتادہؒ جیسے ائمہ نے قرآن کی اسی نص سے سماعِ موتی کی نفی کو اصولِ دین میں شامل کیا، اور ان سے کوئی ایسی صحیح سند نہیں جو مردوں کے سننے کے عقیدہ کو ثابت کرے۔ چند روایات کلام علی المیت کا ذکر کرتی ہیں، مگر وہ سماعِ موتی نہیں یہی واضح اور دو ٹوک مسئلہ ہے۔