|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا حسنؓ کی صلح میں حکمت تھی؟

No media found.

جی بالکل،حسنؓ کی صلح میں عظیم حکمت تھی اور یہ رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے عین مطابق تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ

إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور قریب ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کر دے۔
صحيح البخاري – كتاب الصلح – باب قول النبي صلى الله عليه وسلم للحسن بن علي ۔۔۔:حدیث 2704

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا
اگر مؤمنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔
(الحجرات 9)

حسنؓ نے اسی قرآنی حکم پر عمل کیا اور اقتدار کو قربان کر کے امت کو بڑے خون خرابے سے بچایا۔ یہ صلح دراصل امت کی بھلائی اور قرآن و سنت کے مطابق تھی، اس لیے یہ حکمت اور خیر کا عظیم مظہر ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account