مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
ہم زمین کو کناروں سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں اس سے کیا مراد ہے؟
:جواب
اس سے زمین کا اس سے، گویا کانٹریکٹ کرنے کو کیا کہتے ہیں؟ سُکڑنا۔ اس کا سُکڑنا بھی مراد ہو سکتا ہے، باقی جو صحیح اس کا مفہوم ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس سے مراد یہی ہے کہ جو زمین کے اندر دفن ہیں وہ، وہ گلتے سڑتے ہیں، مٹی میں ملتے جاتے ہیں، زمین ان کو کھا جاتی ہے، کس طرح کھا جاتی ہے؟ سُکڑ کے کھا جاتی ہے، ختم کر دیتی ہے، بھیج دیتی ہے، بہرحال لاشہ ہے وہ، یہ اس کچھ بھی اس کے، بہرحال سُکڑتا چلا جانا اس سے یہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، یہ ایک کائنات کا ختم ہونا، زمین کا ختم ہونا یہ بھی اس سے مراد ہو سکتی ہے، صحیح مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔