|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

تقیّہ سے کیا مراد ہے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

تقیہ سے کیا مراد ہے؟

:جواب

 بھئی میں تو یہ تقیہ کرتا نہیں ہوں، لیکن یہ لوگ اصل میں تقیہ اس کو کہتے ہیں کہ دل میں کسی سے نفرت کرتے ہیں مگر ظاہراً میل جول رکھتے ہیں۔ تو ان کا یعنی دل اندر کا اور باہر کا، ظاہر اور باطن دو مختلف انداز، اس کو یہ تقیہ کہتے ہیں اور اس کو ایمان کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ جہاں اور بھی ان کی یہاں خرافات ہیں ایسی جن کو میں کہنا بھی مناسب نہیں سمجھتا تو یہ ان کے دین کا حصہ ہے، اصل میں شیطانی چیزیں، بری باتیں، یہ ان کا دین جو ہے اس کی بنیاد ہی یہ چیزیں ہیں۔ ہمارے ہاں اس کو منافقت کہتے ہیں، دوغلا پن اور منافقت یا دو چہرے ہونا، یہ اسلام کے لحاظ سے۔ ان کے ہاں یہ تقیہ ہوتا ہے۔ تو ہمارے ہاں جو چیز بے دینی ہے، ان کے ہاں اس کو دین سمجھا جاتا ہے، دین کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account