|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قرآن و حدیث سے جب میت کے لیے دعا کرنا ثابت ہے، تو دعا میں تو فاتحہ خوانی ہوتی ہے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

قرآن و حدیث سے جب میت کے لیے دعا کرنا ثابت ہے، تو پھر میت کے لیے فاتحہ خوانی ہوتی ہے، اس کے ساتھ(کیوں نہیں؟)

:جواب

یہ فاتحہ خوانی جو ہے، بدعت ہے۔ فاتحہ تو سورۂ فاتحہ ہے۔ اگر آپ فاتحہ خوانی کے مراد معنی، فاتح، سورۂ فاتحہ کی تلاوت لیں، خوانی فارسی کا لفظ ہے اور تلاوت عربی کا لفظ ہے۔ اگر آپ سورۂ فاتحہ پڑھنا مراد لیں اس سے، تو یہ تو حدیث سے ثابت نہیں ہے، سورۂ فاتحہ پڑھی جائے میت کے اوپر۔

​میت میں تو صلاۃ المیت ادا کی جاتی ہے اور اس میں دعا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی عمل اگر کیا جائے گا، تو وہ سنت کے خلاف ہوگا اور اس کا کرنا گناہ ہوگا۔ اسی لیے منع کیا جاتا ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account