|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا مسلمان کو سگریٹ، پان اور نسوار رکھنا جائز ہے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

کیا مسلمان کو سگریٹ پینا، پان تمباکو، نسوار لینا، نسوار لینا جائز ہے کہ نہیں؟ اور ان چیزوں کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟ کیا مسلمان بندہ اس اشیاء کا کاروبار کر سکتا ہے؟

:جواب

یہ سگریٹ، پان، تمباکو اس میں سگریٹ نوشی جو ہے یہ سب سے زیادہ مکروہ چیز ہے اور یہ انسان کی صحت کے لیے بھی بہت مضر ہے، تو اس لیے اس پہ دوہرا (دہرا) خرابی ہے، دوہرا دوہرا گناہ کی بات ہے سگریٹ کے اندر۔ دوسرے یہ کہ اس کے استعمال سے منہ میں بدبو آتی ہے، کیونکہ میں نے سگریٹ پینے والوں کو جب دیکھا ہے، کبھی پاس سے بھی گزر جاتے ہیں تو مجھے ان کے منہ سے کی بو معلوم ہوتی ہے اور فرشتوں کو یہ بدبو جو ہے بہت بری لگتی ہے، وہ دور بھاگتے ہیں اس سے۔ اور سگریٹ پینے والا اگر سگریٹ پینے والا اگر وہ باقاعدہ اچھی طرح مسواک کا عادی نہ ہو، تو اس کے منہ سے بدبو جاتی نہیں ہے بلکہ اور بڑھتی ہی رہتی ہے اور یہ پھیپھڑوں کو بہت نقصان پہنچاتی ہے اور اکثر مضامین میں نے اخباروں میں دیکھے ہیں کہ اس سے بہت ہی زیادہ کینسر ہوئے ہیں سگریٹ نوشی کی وجہ سے۔

اور دیکھیے! آج یہ دنیا ایسی مجبور ہے اپنے عوام کے ہاتھوں کہ ایک طرف تو یہ یہ اشتہار بھی دیتے ہیں، لوگوں کو تلقین بھی کرتے ہیں کہ سگریٹ نوشی سے کینسر ہوتا ہے، سگریٹ نوشی ممنوع ہے، کینسر کے لیے بہت زیادہ صحت کے لیے مضر ہے، دوسری طرف سگریٹ کے اشتہار بھی آتے ہیں، تو یہ تو تضاد والے لوگوں کا معاملہ ہے، ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور یہ دوسری چیزیں جو ہیں پان، تمباکو، نسوار یہ بھی کوئی اچھی چیزیں نہیں ہیں، اگر ان کی زیادتی ہوتی ہے تو مسوڑھے اور دانت خراب ہوتے ہیں اس سے اور کبھی کبھی اس کی زیادتی سے جو اس کے ساتھ تمباکو بھی پان کے ساتھ کھایا جاتا ہے، اس سے بھی مسوڑھوں وغیرہ میں کینسر کی شکایات ملی ہیں۔ تو یہ اچھی چیزیں نہیں ہیں۔

دوسرے یہ، ان کے کھانے کے بعد بھی منہ سے بدبو وغیرہ ہو جاتی ہے پیدا اور آپ اگر مسواک نہ کریں، تو پھر اچھی طرح وہ وضو نہیں ہوتا ہے آپ کا۔ تو اس لیے ان چیزوں سے جہاں تک بھی ہو سکے ہمیں ان سے اجتناب ہی کرنا چاہیے، نسوار ہے، تمباکو، پان ہے اور یہ سگریٹ نوشی تو سب سے زیادہ بری چیز ہے اور یہ پیسے کا بھی اپنے ضیاع ہے، یہ اسراف، بہت برا اسراف ہے یہ۔ یہ چیزیں اگر آپ سگریٹ جتنی پیتے ہیں اتنے آپ اچھی غذا کھائیں، پھل کھائیں، دودھ پیئیں، جوس پیئیں تو آپ کی صحت اس سے بہتر ہوگی، آپ بیماریوں سے بچے رہیں گے، اس کی بجائے آپ سگریٹ پی کے ایک طرف تو اپنی صحت کو خراب کرتے ہیں کہ اچھی غذا آپ نہیں کھا سکتے، وہی پیسہ آپ اپنے سگریٹ نوشی میں اڑا دیتے ہیں، دوسری طرف یہ ہے کہ آپ اس سگریٹ سے جو مضرت آپ کو پہنچتی ہے، آپ کی صحت کو نقصان ہوتا ہے، وہ ایک فالتو چیز ہے، اب آپ سمجھ لیجیے دورا (دہرا) نقصان ہوتا ہے۔

تو ان چیزوں سے ہمیں بچنا چاہیے اور ان چیزوں سے ہمارے دلوں میں نفرت ہونا چاہیے، ایمان والے، متقی، پرہیزگار، تزکیۂ نفس کرنے والے ہوتے ہیں، ہمیں صوم یہی ہماری تربیت کرتا ہے اور اسی چیزوں سے پرہیز کے لیے ہمیں بڑا آسان ہو جائے، مومنوں کے لیے تو یہ چیزیں بہت آسان ہیں، جس چیز کو چاہیں وہ ترک کر دیں، صوم کے ذریعے سے، صوم کے مہینے میں، تو بہت ہی اچھا ہمارا یہ مہینا ہے ہمارے لیے، تو ان چیزوں کو ہمیں آہستہ آہستہ چھوڑنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

اور کاروبار بھی ایسی چیزوں کا جو مکروہ چیزیں ہیں، ان کا کاروبار بھی کرنا اچھی بات نہیں ہے، اس میں خیر و برکت نہیں ہوگی، ہم تو اپنے بھائیوں کو یہی تلقین کرتے ہیں کہ ایسی چیزوں کا کاروبار بھی نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دوسرا کاروبار کریں، اللہ تعالیٰ اسی میں برکت دے گا۔ ایسی چیزیں جو صحت کے لیے مضرت پہنچانے والی، نقصان پہنچانے والی ہوں، اس کا آپ کاروبار کر کے تو عوام کی خدمت کر رہے ہیں یا عوام کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ خود آپ اپنے ضمیر سے پوچھیے، آپ کو اس کا جواب مل جائے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ مکروہات والی چیزیں کہ فرشتوں کو اس کی بو بری لگتی ہے، تو اس لحاظ سے بھی اس کی اس کا مکروہ ہونا، اس کی کراہیت جو ہے اپنی جگہ۔

Video Short Clips

Log In to Your Account