مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
مرتد کے ساتھ اس کے، اس کے دور میں کیسا سلوک کرنا چاہیے؟ دور میں، دور سے کیا مطلب؟ اس دور میں۔ اس دور میں، ہاں یہ آپ کا سوال صحیح ہے۔
:جواب
اسلامی حکومت میں تو تعزیرات کا قانون ہوتا ہے اور مرتد کو قتل کیا جاتا ہے۔ لیکن اس دور میں جس کو آپ قتل کریں گے، اس کے ساتھ کوئی ترحم کا اور کسی قسم کا حسنِ سلوک کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، اس سے نفرت اور بیزاری کا جذبہ ہونا چاہیے۔ تو قتل نہیں کیا جا سکتا اس وقت اس کو، لیکن جذبہ وہی ہونا چاہیے کہ یہ قابلِ نفرت ہے، یہ گندا عنصر ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے خباثت سے پاک کیا ہے ہماری تنظیم کو۔ یہ بہت ہی خبیث ہیں، اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو منہ لگایا جائے، اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو اپنے کسی مرکز میں پھٹکنے دیا جائے۔ ان کی جو چہرے سامنے آئے ہیں، بہت ہی گندے چہرے ہیں ان کے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہماری تنظیم کو اس سے پاک کر دیا ہے۔ ہمارے ہر بھائی کا یہی جذبہ ہونا چاہیے، یہی سوچ ہونا چاہیے۔
کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے، کوئی انتقامی بات نہیں ہے یہ، بالکل اللہ کے دین کے لحاظ سے اور اپنی تنظیم کے لحاظ سے؛ تنظیم سے جتنی محبت ہوگی، اسی طرح اسی، اتنی ہی زیادہ شدت کے ساتھ ان تنظیم کے دشمنوں سے ہمیں نفرت ہوگی۔
مسلمان، مرتد کے ساتھ مسلمان کو لین دین؟ بالکل لین دین نہیں ہونا چاہیے ان کے ساتھ۔ رشتہ دار ہو تب بھی لین دین نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تمام مشرکین سے، جو فرقہ پرست ہیں ان سے سب سے بدترین قسم کے لوگ ہیں۔ ان سے زیادہ بدتر تو کوئی اور چیز تصور ہی نہیں کی جا سکتی۔