|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

مشرکہ بیوی کو ٹی وی دیکھنے سے روکنا چاہیے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

سوال کیا گیا ہے کہ بیوی کسی ہمارے مومن بھائی کی بیوی مشرکہ ہے۔ وہ ٹیلی ویژن دیکھتی ہے، اس کو روکنا چاہیے یا نہیں۔

:جواب

دیکھیے پہلی بات تو میں عرض کروں گا کہ جب آپ مشرکوں میں رشتے کرتے ہیں تو اس میں یہی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ جو مومن ہوگی بیوی، مومنہ خا، مومن خاندان سے آئے گی، تو اس کے اندر یہ، یہ شوق نہیں ہوں گے۔ وہ اللہ سے ڈرنے والی ہوگی اور ایمان کے تقاضے پورے کرنے والی ہوگی۔ یہ آپ کے مسائل اسی وقت اٹھتے ہیں، اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں، تنازعے ہوتے ہیں جب مشرک رشتہ داروں میں شادی کر لی جاتی ہے۔

تو اس لیے ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی رشتے مومنوں میں کرنے چاہیں، مومنہ بیٹیاں لینی چاہیں، اور میں اس پر بہت زیادہ زور دیتا ہوں، بلکہ جہاں ہمارے ساتھی کوئی اگر مشرکوں میں کرتے ہیں تو اس پر میری ناراضگی بھی ہوتی ہے، کیونکہ اس میں اس وقت فوری طور سے چاہے آپ کو اطمینان ہو جائے اور آپ کے گھر والے خوش ہو جائیں، مطمئن ہو جائیں، لیکن بعد میں آپ کی زندگی کے لیے اس میں بہت زیادہ مسائل ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہماری مومنہ بیٹیاں بیٹھی رہتی ہیں، ان کے رشتے کہاں ہوں گے؟ مشرکوں کو مومنہ بیٹی تو مشرک کو نہیں دی جا سکتی۔ تو ہمارے بھائی کی بچی تو ہماری بچی کی طرح سے ہے، اگر اس کو پریشانی ہے ہمارے بھائی کو اس سلسلے میں تو وہ تو ہماری پریشانی ہے۔ تمہارے ساتھیوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے، مشرکوں میں شادیاں نہیں کرنا چاہیں۔

بہرحال یہ تو ایک تمہیدی بات تھی، علیحدہ اس سے۔ سوال یہ ہے کہ بیوی مشرکہ، کیونکہ وہ تو اس کو ایمان کی کوئی قدر نہیں ہے اس کے دل میں، نہ اعمالِ صالحہ کا اس کو کوئی احساس ہے، نہ آخرت کا کوئی اس کے یہاں تصور ہے، اس لیے وہ ٹی وی بھی دیکھے گی، جو بھی چاہے گی کرے گی، اور آپ جب تک کہ سختی سے اس کے اوپر پابندیاں نہیں لگائیں گے، وہ آپ کے لیے ایک مصیبت بنے گی۔ تو اس لیے پابندیاں لگائیے، ٹیلی ویژن دیکھنے میں دیکھیے، ایک عورت کو غیر مردوں کی شکلیں دیکھنا، یہ بالکل نام، ناجائز ہے۔

آپ کے گھر میں، حدیث میں تو آتا ہے:

مَن رَأَى مِنكُم مُنكَرًا فَليُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِن لَم يَستَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِن لَم يَستَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ۔

اگر کوئی منکر بات دیکھے، اللہ کی نافرمانی کا کام دیکھے، تو اس کو طاقت سے روک دے، طاقت سے نہیں روک سکتا ہے تو زبان سے روکے، زبان سے بھی نہیں روک سکتا ہے تو دل میں برا جانے۔ اب آپ سمجھ لیجیے اگر آپ کے گھر میں ٹی وی چل رہا ہے، ڈرامہ بازیاں ہو رہی ہیں، غیر محرموں کی تصویریں، غیر محرم عورتوں کی تصویریں مرد اور بچے دیکھ رہے ہیں، غیر محرم مردوں کی تصویریں عورتیں، آپ کی بیوی دیکھ رہی ہیں، تو یہ بتائیے کہ آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ آپ اس کے لیے مسئول نہیں ہیں؟ اللہ کے ہاں جواب دہ نہیں ہیں؟ تو آپ اس کے ذمہ دار ہیں، اس کا آپ کو مداوا کرنا چاہیے، اس کا علاج کرنا چاہیے؛ یا تو ٹیلی ویژن رکھیں ہی نہیں آپ بالکل، رکھیں تو پابندی ہو، مگر پابندی بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ نہ رکھا جائے ٹی وی۔

ہمارے جو اللہ کے وہ بندے جن کو تقویٰ کا شوق ہے، اللہ کے ہاں جنتوں میں تمام آسائشیں حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ان کو دنیا کی آسائشوں سے بے پرواہی اختیار کرنا چاہیے، بے نیازی اختیار کرنا چاہیے؛ چند روزہ زندگی میں ہمیں آسائشیں مل گئیں اور ہمیں وہاں کی آسائشوں سے محروم کر دیا گیا، تو یہ بہت بڑی خسارے کی بات ہے۔ اس لیے گھر پہ پوری پابندی لگائیں، بچوں کی تربیت آپ کی ذمہ داری ہے اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ہمارے رشتے بھی مومنوں میں ہوں، مومنوں کے رشتے مومنوں میں ہوں، اس کا خاص خیال رکھا جائے تو یہ مسائل ان شاءاللہ پیدا نہیں ہوں گے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account