مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
اگر کوئی ساتھی اپنے، پورے خاندان میں اکیلا مؤمن ہے اور اسے گھر والوں نے اس کو گھر سے نکال دیا ہے تو جماعت کو چاہیے کہ اس کی نوکری وغیرہ کا بندوبست کرے۔
:جواب
ہم پوری کوشش کرتے ہیں بھائی اس بات کی، جب ایسا کوئی کیس ہوتا ہے ہمارا، ہم اس کی، معاش کا اہتمام پورا کرتے ہیں۔ اس کو نوکری وغیرہ، ملازمت کا، کام کا، اس کے لیے مزدوری وغیرہ کا، جیسی بھی ان کی صلاحیت ہوتی ہے اس کے مطابق کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے ہر جگہ، ہر صوبے میں، ہر مرکز میں اس قسم کی کوشش کی جاتی ہے اور ہم ساتھیوں کو برابر اس بات کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔