مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
کیا صرف صحابہ کرام کا ذاتی عمل، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو، ہمارے لیے قابلِ عمل ہو سکتا ہے؟
:جواب
صحابہ کرام کا جو بھی عمل ہے وہ یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی، کی سنت کے مطابق ہے۔ یہ تصور کیا ہی نہیں جا سکتا کہ صحابہ کرام کا کوئی عمل صحاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہو۔ انفرادی طور سے ایک یا دو صحابی کا معاملہ دوسرا ہے۔ اس کو سنتِ صحابہ نہیں کہا جاتا، کہا جاتا، سنتِ صحابہ کے معنی ہیں صحابہ کرام کا سب کا، صحابہ کرام کا عمل۔ اور جس پہ ان کا اجماع ہے، چاہے وہ نظریاتی معاملہ ہو یا عمل کا تعلق ہو۔