مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
کیا آپ] لوگ عذابِ قبر کو نہیں مانتے؟]
:جواب
بالکل مانتے ہیں ہم عذابِ قبر کو جس طرح نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ عذابِ قبر مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے۔ قومِ نوح کو بھی جس کو قبر نہیں ملی، اس کو بھی عذابِ قبر ہوا۔ اور اسی طرح قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط جن کو پتھر مار مار کے ہلاک کر دیا گیا، ان کی قبریں نہیں بنیں، ان کو سب کو عذاب ہوتا ہے۔ مرنے کے فوراً بعد موت کسی طرح سے بھی آئے، کسی شکل سے آئے۔ کوئی جانور کھا جائے، ڈوب کے مر جائے، آگ میں جل جائے، کسی طرح سے بھی کسی کو موت آئے، روح نکل جاتی ہے اور روح کو پھر روک لیا جاتا ہے۔ پھر جہاں روح ہوتی ہے، وہی روح کا ٹھکانا ہوتا ہے مرنے کے بعد قیامت تک کے لیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے سورہ زمر (آیت نمبر ۴۲) میں:
یُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْھَا الْمَوْتَ
اللہ تعالیٰ موت کے بعد، موت دینے کے بعد، مارنے کے بعد بندے کی روح کو روک لیا کرتا ہے۔ تو وہیں اس کے ساتھ سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ اس کے لیے، جسم کے لیے تو یہ بتایا گیا قرآن میں بھی، حدیث میں بھی کہ یہ مٹی ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ عجب الذنب باقی رہتی ہے، اسی عجب الذنب پر قیامت کے دن پھر اللہ تعالیٰ دوبارہ جسم بنا کے اس روح کو جس کو روک لیا ہے، اس کو پھر ڈال دے گا اس جسم میں۔ تو پھر قیامت کے دن جو حساب کتاب ہوگا، وہ اس جسدِ عنصری کے ساتھ ہوگا۔