|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

ناظم کی اطاعت نہ کرنے والا کیا ہمارا ساتھی ہے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

یہ سوال آیا ہے کہ کیا گیا ہے کہ ناظم کی اطاعت اور ناظم کون مقرر کرتا ہے؟ اور جو شخص ناظم کی اطاعت نہ کرے وہ ہمارا ساتھی ہے یا نہیں ؟

:جواب

یہ نظم جو ہے یہ بہت ہی ضروری چیز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں بھی اس کو بیان کیا ہے سورہ نساء میں

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ ۔ (النساء:۵۹)

  اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اپنے اولوالامر کی  ۔ اولوالامر جو ہیں صاحبِ امر، یہ امیر ہوا کرتے ہیں۔ ناظم، امیر جو بھی ہیں ان کی اطاعت جو ہے لازمی ہے۔

​تو یہ اصل میں کسی بھی جماعت کا جو اولوالامر ہوتا ہے وہ امیر ہوتا ہے پھر وہ اپنی آسانی کے لیے مختلف علاقوں میں تاکہ ذمہ داریاں پوری ہوتی رہیں، ضرورتیں پوری ہوتی رہیں، نظم برقرار رہے اور جماعت کا کام اچھی طرح دعوت کا اور تربیت کا کام اچھی طرح ہوتا رہے تو علاقہ وائز ناظم مقرر کر دیتے ہیں، مقرر نظم بنا دیتے ہیں۔ ناظم اپنے شوریٰ کے تحت کام کرتے ہیں۔ تو یہ ناظم جو ہے امیر بناتا ہے، امیر اپنی شوریٰ کے مشورے سے بناتا ہے اور وہ امیر کے نمائندے ہوتے ہیں، امیر کے قائم مقام ہوتے ہیں اس حلقے میں۔

​جو ناظم کی اطاعت کرے گا وہ گویا امیر کی اطاعت کر رہا ہے اور جو ناظم کی اطاعت نہیں کرتا وہ گویا امیر کی اطاعت نہیں کرتا۔ تو جو امیر کی اطاعت نہیں کرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کی بہت زیادہ سرزنش کی ہے اس پر، بہت زیادہ سختی اس پہ کی ہے۔ فرمایا کہ

مَنْ يُطِعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي  

جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی، نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ۔ 

  وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي  

جو امیر کی نافرمانی کرتا ہے وہ میری نافرمانی کرتا ہے۔

​اور دوسری روایت میں آتا ہے کہ جو نبی علیہ السلام کی، قرآن میں بھی آتا ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے گویا اللہ کی اطاعت کی اور حدیث میں آتا ہے کہ جس نے نبی علیہ السلام کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔

​تو اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان احادیث کو آپ اکٹھا کر لیں تو اپنے ناظم کی یا امیر کی نافرمانی جو ہے، یہ رسول کی نافرمانی ہوتی ہے اور اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے۔ اللہ کی نافرمانی جو ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے تو اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے ہمیں، ہمیں ہمیشہ اپنے ناظم کی اطاعت کرنا چاہیے، اس سے نظم رہتا ہے۔ ہماری جماعت سے وابستگی اور جماعت سے خلوص کا یہ تقاضا ہے کہ ہم تمام معاملے میں اپنے ناظم کی اطاعت کریں، اس کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ کام ہمارے حلقے کا، ہمارے مرکز کا اچھی طرح سے ہوتا رہے، تربیتی چیزیں بھی ہوتی رہیں، تمام کام اچھی طرح سے ہوتے رہیں۔ اس طرح جماعت رہتی ہے اور اس قسم کی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، یہ ہماری ایک طرح اللہ کی عبادت ہے۔ ​کہ ہم اپنے نفس کی بات ماننے کی بجائے اپنے نظم کی بات مانیں، اپنے ناظم کی بات مانیں۔ نظم کے کہے پر چلیں، ہاں! اگر ناظم یا امیر کوئی بات قرآن حدیث کے خلاف کہے، اللہ کی نافرمانی میں۔۔۔

Video Short Clips

Log In to Your Account