|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا قبروں پر سجدہ تعظیمی جائز ہے؟

قرآن و سنت کی روشنی میں قبروں پر سجدہ تعظیمی کرنا جائز نہیں، بلکہ یہ شرک اور اللہ کی عبادت میں غیر کو شامل کرنے کے مترادف ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـــًٔـا
ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں
(آل عمران: 64)

سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے، خواہ وہ تعظیم کے لیے ہو یا عبادت کے لیے۔ مخلوق کو سجدہ کرنا، چاہے قبر پر ہو یا درگاہ پر، شرک ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ
خبردار  قبروں کو سجدہ گاہ نہ بناؤ۔
صحيح مسلم – كتاب المساجد ومواضع الصلاة – باب النهي عَنْ بناء المساجد على القبور ۔۔۔: 532

نبی ﷺ نے صحابہ کو قبروں پر سجدہ کرنے یا تعظیمی طور پر جھکنے سے سختی سے منع فرمایا۔ لہٰذا قبروں پر سجدہ  ناجائز اور حرام عمل ہے۔ یہ عمل امت کو شرک کی طرف لے جاتا ہے، جیسا کہ پچھلی امتیں اسی طریقے سے گمراہ ہوئیں۔ مسلمان کے لیے صرف اللہ کو سجدہ کرنا جائز ہے۔

مزید سوال کریں / اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Are you human? Please solve:Captcha


Log In to Your Account