|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

تم سُدی تو نہیں؟

اے رفیقِ راہ! کاش کہ تم ہمیں سن لیتے۔

عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی، کسی کام کی نہ رہتی، اسے پالنے کا خرچہ، اس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا، تو اسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے، جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی، جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔
یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا، بلکہ اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔
یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ، زمین کے کچھ حصے پر بوجھ تو گھیرتی، آکسیجن بھی استعمال کرتی، لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی، نہ دودھ دیتی، نہ بچے، نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔
اس اونٹنی کو سُدی کہا جاتا۔

أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى

کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ (سورۃ القیامۃ: 36)

قرآنِ کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کے لیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو، جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو، جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو، جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو، جو صرف کھانا پینا، جاب اور ملازمت کرتا ہو، جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرا ملک شفٹ ہونا، سوشل میڈیا استعمال کرنا، اس پر فالورز کا ڈھیر لگانا، کسی خوبصورت سے شادی کرنا، ڈگری حاصل کرنا اور کسی بڑے عہدے پر براجمان ہونا۔
اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو، نہ عمل میں۔
یہ شخص سُدی ہے۔
کیونکہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ دنیا کے کسی بھی شعبے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دے، سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر لے، ستاروں کی گذرگاہوں کو جان لے، سمندروں کے سینے چاک کر ڈالے، زمین کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کر لے، روشنی کی رفتار پر کمند ڈال دے، مصروفیت کے بازاروں میں دھوم مچا لے۔
تب بھی یہ سُدی ہی ہے۔
یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے، اس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے، نہ آسمان۔

فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ

پھر نہ تو آسمان اور زمین ان پر روئے اور نہ ہی اُنھیں مہلت دی گئی۔ (سورۃ الدخان: 29)

جن مقاصد اور اہداف کو وہ اپنی زندگی میں جی رہا ہے، اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں، لیکن حقیقت میں یہ مقاصد معاشرت نے اس پر مسلط کیے ہیں، کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہیں۔
اگر وہ قرآن پڑھے، رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو دیکھے، تو اسے شدت سے احساس ہو کہ میں تو سُدی ہوں۔

اور جب انسان سُدى بن جاتا ہے تو اس کی گمراہی اس کے ایمان اور عقیدے کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔ پھر وہ ربِّ کائنات کے ساتھ مخصوص صفات بھی مخلوق میں تقسیم کرنے لگتا ہے۔ کسی کو داتا، کسی کو دستگیر، کسی کو غوثِ اعظم، کسی کو مشکل کشا اور کسی کو فریاد رس سمجھ کر پکارنے لگتا ہے۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ حلال و حرام کا اختیار بھی اللہ کے نازل کردہ حکم کے بجائے پیر و مولویوں کو، پیرانِ طریقت، آباء و اجداد، رسم و رواج یا مذہبی پیشواؤں کے سپرد کر دیتا ہے، گویا شریعت سازی کا حق بھی اللہ کے علاوہ دوسروں کو دے دیتا ہے۔ حالانکہ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت، دعا، استعانت، نذر، خوف، امید، حلال و حرام اور اطاعتِ مطلقہ کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص مانا جائے۔ جب انسان ان حدود کو توڑ دیتا ہے تو وہ اپنی زندگی کو وحی کے بجائے خواہشات اور انسانوں کے اقوال کے تابع کر دیتا ہے، اور یہی سُدى ہونے کی سب سے خطرناک صورت ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے مقصد سے ہٹ کر توحید کے بجائے غیر اللہ کی طرف جھک جائے۔

!میرے دوست
پھر اس “سُدی” کی بے مقصدی صرف نظریات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اعمال میں بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ جب وہ ملازمت، تجارت یا کاروبار میں ہوتا ہے تو اس کے لیے حلال و حرام کی کوئی قطعی حد باقی نہیں رہتی، جہاں زیادہ فائدہ نظر آئے، وہی راستہ اختیار کر لیتا ہے، خواہ وہ رشوت ہو، سود ہو، جھوٹ ہو، دھوکہ ہو یا خیانت۔ غمی کا موقع آئے تو ہندووانہ رسوم، جاہلی رواج، بدعات اور خلافِ سنت اعمال میں شریک ہونے سے نہیں جھجکتا، اور خوشی کا موقع آئے تو مہندی، مایوں، ڈھول، ناچ گانا، مخلوط محافل، تصویربرداری و ویڈیوگرافی اور دیگر غیر شرعی رسومات کو بلا تردد اپنا لیتا ہے۔

اس کی زندگی کا کوئی الٰہی معیار نہیں ہوتا، بلکہ ہر موقع پر اس کا دین، معاشرے کی خواہشات، خاندان کے دباؤ اور نفس کی پسند کے تابع ہوتا ہے۔ یہی تو “سُدى” ہونے کی علامت ہے۔ یعنی انسان اپنی زندگی کو وحی کے بجائے خواہشات اور رسم و رواج کے سپرد کر دے، جہاں جی چاہے رک جائے، جہاں جی چاہے چل پڑے، جس حکم کو چاہے مان لے اور جس حکم کو چاہے چھوڑ دے، گویا اس کے وجود پر نہ اللہ کی بندگی کا اثر باقی رہے اور نہ آخرت کی جواب دہی کا احساس۔

جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا، یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔
یہ قرآن ہی ہے جو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا:

وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ

اور اللہ نے تمھیں جو (مال) دے رکھا ہے تم اس کے ذریعہ آخرت کا گھر طلب کرو اور دنیا سے (بھی) اپنا حصّہ نہ بھولو اور بھلائی کرو جیسا کہ اللہ نے تم پر احسان فرمایا اور زمین میں فساد کی کوشش نہ کرو بےشک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ القصص: 77)

ابھی سانس آ رہی ہے، تو موقع ہے۔
سوچ لیں کہ سُدی بن کر زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے؟
اگر بامقصد اور نافع بننا چاہتے ہیں، تو آج ہی سے قرآنِ کریم کو پھر سے ترجمے سے پڑھو اور عمل کرو۔
یہ آپ کے ہر لمحے اور ہر قدم میں مقصدیت کو کوٹ کوٹ کر بھر دے گا۔ ان شاء اللہ

Log In to Your Account