|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

غثاء نہیں بننا

!اے ہم سخن
کبھی سیلاب کے کنارے کھڑے ہو کر غور کیا؟ سیلاب جب اپنے زور پر ہوتا ہے تو اپنے ساتھ ہر چیز بہا لے جاتا ہے۔ لیکن اس تیز بہاؤ کے اوپر جو چیز تیرتی رہتی ہے وہ خشک پتے، تنکے، جھاڑیاں، کوڑا کرکٹ اور جھاگ۔ عربی زبان میں اس بے وقعت، بے وزن اور بے اثر ملبے کو [غُثَاء] کہا جاتا ہے۔

فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىٰ

پھر اسے سیاہ رنگ کا خشک غثاء (کوڑا کرکٹ، سوکھی گھاس) بنا دیا۔
(الاعلیٰ: 5)

جس طرح سرسبز گھاس کچھ ہی عرصے بعد خشک ہو کر بے وقعت غثاء بن جاتی ہے، اسی طرح وہ انسان بھی جو اللہ کی ہدایت سے محروم ہو جائے، اپنی اصل قدر و قیمت کھو دیتا ہے۔

پانی اپنی پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوتا ہے، مگر اس کی سطح پر کچھ تنکے، سوکھے پتے، جھاڑیاں اور بے جان جھاگ بھی بہہ رہے ہوتے ہیں۔ دور سے دیکھنے والا شاید انہیں بھی سیلاب کا حصہ سمجھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ نہ ان کا کوئی وزن ہوتا ہے، نہ سمت، نہ فیصلہ۔ پانی انہیں جدھر چاہے، ادھر لے جاتا ہے۔

دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے… کہیں ہماری زندگی بھی ایسی تو نہیں ہو گئی؟

غثاء کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ وہ موجود تو ہوتا ہے، مگر مؤثر نہیں ہوتا۔ دکھائی بہت دیتا ہے، مگر اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ وہ پانی کی سطح پر ہوتا ہے، لیکن پانی کے بہاؤ کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
آج ضرورت ہے کہ ہم خود آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کہیں ہم بھی غثاء تو نہیں بن گئے؟
ہماری تعداد سے جماعت تو بڑھ گئی ہے، مگر ہمارے کردار سے جماعت کا وزن ختم تو نہیں ہو گیا؟
مخالف سیلاب میں بہتے جا رہے ہیں۔ کبھی فیشن ہمیں بہا لے جاتا ہے، کبھی خواہشات، کبھی شہرت، کبھی دولت، کبھی فوٹو گرافی، کبھی بغیر علم کے مباحثہ، کبھی سوشل میڈیا اور کبھی دنیا کی دوڑ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں، حالانکہ شاید ہم صرف بہائے جا رہے ہیں۔

بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان کمزور ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے اپنی کمزوری کا احساس بھی نہ رہے۔ وہ خود کو زندہ سمجھے، حالانکہ اس کے اندر مقصد مر چکا ہو۔ وہ خود کو مؤثر سمجھے، حالانکہ اس کا وجود صرف تعداد میں اضافہ کر رہا ہو۔

کیا ایسا نہیں ہے؟ کہ
کیا ہماری محفلیں آباد ہیں، مگر ہمارے دل قرآن سے ویران ہیں؟ کیا ہماری گفتگو زیادہ اور عمل کم نہیں ہے؟ کیا ہم حق کو جانتے ہوئے بھی باطل کے سامنے خاموش نہیں رہتے؟ کیا دعوت الی اللہ و اصلاحی کام کے بجائے خود حالات کے ساتھ بہتے نہیں جا رہے؟
اگر ایسا ہے تو یہی غثاء ہے۔
غثاء کبھی راستہ نہیں بناتا، وہ ہمیشہ راستوں کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ مومن کی شان اس کے برعکس ہے۔ وہ حق پر ثابت قدم رہتا ہے، خواہ پوری دنیا اس کے خلاف کھڑی ہو جائے۔ وہ ماحول کا غلام نہیں بنتا بلکہ اپنے کردار سے ماحول کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسے فیشن بہا نہیں لے جاتا، کبھی خواہشات، کبھی شہرت، کبھی دولت، کبھی سوشل میڈیا اور کبھی دنیا کی دوڑ اسے متاثر نہیں کرتی۔ دشمن پر اسکا رعب ہوتا ہے یہ شخص اہل ایمان کی جماعت کا نصب العین بھول نہیں جاتا یہ مقصد چھوڑ نہیں دیتا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں، حالانکہ شاید ہم صرف بہائے جا رہے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا

غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ

تم سیلاب کے غثاء (بے وقعت جھاگ) کی مانند ہو جاؤ گے۔
یہ صرف تعداد کی بات نہیں، بلکہ کیفیت کی بات ہے۔مکمل حدیث یوں ہے

ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں “وہن” ڈال دے گا۔ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! “وہن” کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے۔
(سنن ابي داود:كتاب الملاحم:حدیث: 4297)

!یاد رکھو
اللہ تعالیٰ کو تعداد نہیں، معیار مطلوب ہے۔ ایک مخلص، باعمل اور ثابت قدم مومن ہزار بے مقصد افراد سے بہتر ہے۔
اس لیے اپنے آپ کو غثاء نہ بننے دو۔ اپنے ایمان کو علم سے، اپنے علم کو عمل سے، اور اپنے عمل کو اخلاص سے مضبوط کرو۔ قرآن سے تعلق جوڑو، سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا معیار بناؤ، اور ایسا کردار پیدا کرو کہ تمہارا وجود صرف گنتی میں اضافہ نہ کرے بلکہ اہل ایمان کی جماعت کے لیے قوت، وزن اور اثر کا ذریعہ بن جائے۔ یاد کر لو اور خود سے عہد کرو کہ “غثاء” نہیں بننا۔

Log In to Your Account