اللہ تعالیٰ نے فرمایا
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
جس دن انسان اپنے بھائی، اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ اس دن ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے دوسروں سے غافل کر دے گی۔
(عبس: 34–37)
یہ کیفیت قیامت کے دن خوف، جواب دہی اور عدلِ الٰہی کے کمال کو ظاہر کرتی ہے۔ اس دن انسان کو نہ کسی کا سہارا یاد رہے گا، نہ کوئی رشتہ بچا پائے گا، کیونکہ ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں مشغول ہوگا۔ دنیا میں جن رشتوں پر فخر کیا جاتا ہے، وہاں صرف ایمان اور عملِ صالح کا تعلق باقی رہے گا، نسب یا قربت کچھ فائدہ نہیں دے گی۔
نبی ﷺ نے فرمایا
تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا
لوگ قیامت کے دن ننگے، پاؤں برہنہ اور بےختنہ جمع کیے جائیں گے۔
صحيح البخاري – كتاب الرقاق – باب كيف الحشر: 6527
اس دن ہر رشتہ، عزت، اولاد، یا دوستی مٹ جائے گی، صرف ایمان کا رشتہ باقی رہے گا۔ یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو متنبہ کر رہا ہے کہ دنیا میں تعلقات پر نہیں بلکہ ایمان اور اعمال کی بنیاد پر اپنی نجات کا بندوبست کرو۔