جب اس مسئلے کو توحید اور سنت کی روشنی میں دیکھا جائے تو سب سے بڑا اصول یہی سامنے آتا ہے کہ موت کے بعد روح کا دنیا میں واپسی کا دروازہ بند ہے، اور یہ دروازہ صرف قیامت کے دن کھلے گا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے چھوڑ دینے سے بعد میں ’’مقامات پر روحوں کے ظاہر ہونے‘‘ جیسے عقائد پیدا ہوئے جو شریعت کے قطعی اصول سے ٹکراتے ہیں۔
وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ
اور ان کے پیچھے ایک آڑ ہے (برزخ کی)، اس دن تک جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
(المؤمنون 100)
یہ مکمل عبارت صاف طور پر اعلان کرتی ہے کہ موت اور دوبارہ اٹھائے جانے کے درمیان برزخی پردہ حائل ہے، جو دنیا اور روح کے آزادانہ آمد و رفت کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا ہے۔ اگر یہ دروازہ کھلا ہوتا تو قرآن اس آڑ کا انکار نہ کرتا، نہ ہی اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُون کی قید لگاتا۔
اہلِ جاہلیت سمجھتے ہیں کہ مرنے والوں کی روحیں پرندے یا جانور بن کر دنیا میں گھومتی ہیں۔ آپ ﷺ نے اس عقیدے کو باطل قرار دے کر ختم کر دیا۔
یہی وہ بات ہے جو آج کے کئی عقائد انہی جاہلی الفاظ کے نئے ناموں کے ساتھ زندہ ہو چکے ہیں، خواہ انہیں نیک لوگوں کی تجلی کہا جائے یا روح کا ظہور اصل تصور وہی ہے جسے قرآن نے رد فرمایا ہے۔
صحابہؓ کے نزدیک روح کی واپسی صرف قیامت کے دن ہے، نہ قبروں میں روحیں آتی ہیں، نہ گھروں میں، نہ کسی موقع پر نمودار ہوتی ہیں۔ ان کا فہم قرآن کے اس جملے پر قائم تھا کہ برزخ دنیا اور روح کے درمیان ناقابلِ عبور پردہ ہے۔ آج بعض لوگ مخصوص مقامات پر نور، تجلی، فیضان یا روح کی حاضری جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ سب اسی غلط اصول پر کھڑے ہیں کہ روح موت کے بعد دنیا میں آتی جاتی ہے۔ اصل خرابی یہی ہے۔ جب یہ بنیادی دروازہ بند مان لیا جائے کہ روح صرف قیامت کے دن جسم میں لوٹائی جائے گی جیسا کہ قرآن کا صریح بیان ہے تو تمام باطل فکریں خود ہی گر جاتی ہیں۔
نیک لوگوں کی روحوں کا دنیا میں ظاہر ہونا عقیدۂ توحید کے خلاف ہے۔ نہ قرآن اسے مانتا ہے، نہ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی، نہ صحابہؓ نے اسے تسلیم کیا۔ روح کی واپسی کا وقت صرف روز قیامت ہے، اس سے پہلے نہیں۔