یہ استعانتِ غیراللہ ہے، اور دعا بھی شمار کریں تو دعا اور مدد مانگنا دونوں صرف اللہ کے لیے خاص ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُلْ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّۭا وَلَا رَشَدًۭا قُلْ إِنِّى لَن يُجِيرَنِى مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٌۭ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًۭا
کہہ دومیں تمہارے لیے نہ نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ ہدایت کا، اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے اللہ کے مقابل کوئی پناہ دینے والا نہیں۔
(الجن :21-22)
نبی ﷺ خود اعلان فرماتے ہیں کہ میرے پاس نفع و ضرر کا اختیار نہیں، لہٰذا آپ ﷺ سے یا کسی ولی سے مدد مانگنا عبادت میں غیراللہ کو شریک کرنا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله
جب تو مانگے تو اللہ سے مانگ، اور جب مدد چاہے تو اللہ ہی سے مدد چاہ۔
جامع الترمذي – أبواب صفة القيامة والرقائق والورع: 2516
توحید یہی ہے کہ بندہ صرف اللہ کو مختارِ حقیقی مانے اور ہر مدد، فریاد اور دعا اسی کے حضور کرے، باقی سب اس کے ماتحت الاسباب ہیں۔