|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا نبی ﷺ کی حدیث کے بغیر قرآن پر عمل ممکن ہے؟

No media found.

نبی ﷺ کی حدیث کے بغیر قرآن پر مکمل عمل کرنا ممکن نہیں، اور یہ بات خود قرآن کی روشنی سے واضح ہوتی ہے۔

:قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی کرو۔
(سورہ کوثر:2)

یہ آیت ہمیں عبادات کے بنیادی احکام بتاتی ہے، مگر تفصیل نہیں دیتی کہ صلاۃ کس طرح ادا کی جائے، سجدہ کس طرح کیا جائے، قربانی کا طریقہ کیا ہو، اور ذبیحہ کس طریقے سے ذبح کیا جائے۔ اسی طرح زکوٰة، حج، صوم اور دیگر عبادات میں بھی قرآن میں عمومی احکام ہیں، مگر تفصیلی عملی طریقہ احادیث سے ملتا ہے۔

:مثال کے طور پر

صلاۃ کے قیام، رکوع، سجدہ، اور ہاتھوں کی حالت، قربانی کا صحیح طریقہ اور ذبیحہ، زکوٰة کا حساب اور نصاب۔ وغیرہ

یہ سب احکام صرف قرآن سے واضح نہیں ہوتے، بلکہ نبی ﷺ کی سنت اور احادیث سے معلوم ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی تعمیل کے لیے حدیث اور سنت بھی دین کا حصہ ہیں، اور بغیر ان کے عبادات اور معاملات کا صحیح طریقہ معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین حدیث قرآن پر مکمل عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، کیونکہ قرآن نے اپنی تفصیلات نبی ﷺ کے ذریعے بیان فرمائی ہیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account